شفافیت کے ساتھ رائے شماری کیلئے مؤثر اقدامات

ریاست میں 6 ہزار745 عملہ کی خدمات حاصل، چیف الیکٹورل آفیسر رجت کمار کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔22مئی (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں 17حلقہ جات پارلیمان میں رائے شماری کے اقدامات کئے جا چکے ہیں اور صبح سب سے پہلے الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق پوسٹل بیالٹ کی گنتی عمل میں لائی جائے گی۔ چیف الکٹورل آفیسر تلنگانہ مسٹر رجت کمار نے آج پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں موجود لوک سبھا نشستوں کے لئے رائے شماری کے عمل کا آغا ز صبح 8بجے ہوگا اور ریاست کے تمام حلقہ جات پارلیمان کے لئے 35مقامات پر رائے شماری عمل میں لائی جائے گی ۔ انہوں نے بتایا کہ رائے شماری کیلئے جملہ 6ہزار 745 افراد پر مشتمل عملہ کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں ۔ انہو ںنے بتایا کہ 17حلقہ جات پارلیمان پر جملہ 443 امیدواروں نے حصہ لیا تھا ۔ مسٹر رجت کمار نے بتایا کہ ای وی ایم کے ووٹوں کی گنتی 8بجکر 20منٹ پر شروع کی جائے گی جبکہ 5مشینوں کے وی وی پیاٹ کی گنتی کوبھی یقینی بنایا جائے گا۔ہر مرکز رائے شماری پر 14 ٹیبل ہوں گے جبکہ حلقہ نظام آباد میں رائے شماری کیلئے 36 ٹیبل لگائے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔رائے شماری کے بعد نتائج کا اعلان ریٹرننگ آفیسر کی ذمہ داری ہے اس میں الیکشن کمیشن کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ رجت کمار نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں رائے شماری کے دوران امن و ضبط کی برقراری کیلئے متعدد اقدامات کئے گئے ہیں اور ان اقدامات میں تمام مراکز رائے شماری کے قریب امتناعی احکام بھی شامل ہیں۔چیف الکٹورل آفیسر تلنگانہ نے بتایا کہ ریاست میں 17حلقہ جات پارلیمان کے ووٹوں کی گنتی کے دوران مکمل شفافیت کی برقراری کے لئے بھی اقدامات کئے جا چکے ہیں

اور تمام مراکز رائے شماری پر الیکشن کمیشن کے مبصرین موجود رہیں گے تاکہ کسی قسم کی کوئی دھاندلی کی کوئی گنجائش نہ رہے۔مرکزی مبصرین اور نیم فوجی دستوں کی نگرانی میں موجود الکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی جگہ اسٹرانگ روم کے مہر نکالنے کا وقت امیدوارو ں اور ان کے انتخابی ایجنٹس کو بتادیا گیا ہے تاکہ وہ مہر اور قفل کھولتے وقت موجود رہیں علاوہ ازیں رائے شماری کے دوران تمام مقامات پر مرکزی مبصرین موجود رہیں گے ۔بتایا جاتا ہے کہ شہر حیدرآباد کے علاوہ سکندرآباد اور ملکا جگری کے علاقوں میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے بڑے پیمانے پر رائے شماری کے اقدامات کئے گئے ہیں اور محکمہ پولیس کو اس بات کی ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ مراکز رائے شماری کے قریب ہجوم کو جمع ہونے کی اجازت نہ دیں اور امن و ضبط کی برقراری کیلئے اقدامات کریں۔

TOPPOPULARRECENT