نئی دہلی، 6 اکتوبر (یو این آئی) بی جے پی نے کانگریس اور اپوزیشن کے انڈیا اتحاد کی جماعتوں پر ملک میں افراتفری پھیلانے کا الزام لگاتے ہوئے منگل کو کہا کہ اپوزیشن ٹیکنالوجی پر مبنی شفاف انتخابی نظام میں جیت نہیں سکتا، اس لیے وہ ملک کو ‘بوتھ پر قبضے ‘ کے دور میں واپس لے جانے کیلئے بیلٹ پیپر کی واپسی کا مطالبہ کر رہا ہے ۔ پارٹی نے یہ بھی کہا کہ کانگریس کے لیڈر گزشتہ انتخابات میں ووٹر فہرستوں میں ایک سے زیادہ بار درج ووٹروں (فرضی ناموں) کا مسئلہ اٹھاتے رہے ہیں اور آج اپنی ہی بات سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ پارٹی کے قومی ترجمان سدھانشو تریویدی نے پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس میں کہا، ”میرا کانگریس سے سیدھا سوال ہے کہ یہ تمام بیانات آپ کے لیڈروں کے ہیں یا نہیں؟ مختلف مواقع پر گزشتہ چند برسوں کے دوران خود راہول گاندھی اور کمل ناتھ، سچن پائلٹ، اشوک گہلوت، ابھیشیک منو سنگھوی جیسے کانگریس کے سینئر لیڈروں نے مختلف مقامات پر کہا ہے کہ ووٹروں کے نام ایک سے زیادہ بار درج ہیں۔
ہم ان سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ آپ 2016، 2018، 2020 اور 2021 میں صحیح تھے یا آج صحیح ہیں؟” تریویدی نے کہا، ”حقیقت تو یہ ہے کہ کانگریس کل بھی جھوٹ بول رہی تھی، آج بھی جھوٹ بول رہی ہے ۔” پارٹی کے سینئر لیڈر روی شنکر پرساد نے ووٹر فہرستوں کو درست کرنے کیلئے الیکشن کمیشن کی خصوصی مہم، ایس آئی آر، کے خلاف چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کو لے کر دارالحکومت میں پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن کے دفتر کی جانب اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ کے مارچ پر ایک بیان میں کہا کہ سپریم کورٹ ایس آئی آر کے عمل کو آئین کے مطابق قرار دے چکا ہے ۔ انہوں نے کہا، ”پھر راہول گاندھی، کانگریس پارٹی اور اپوزیشن اتحاد آخر چاہتے کیا ہیں؟ کیا وہ ملک میں افراتفری پھیلانا چاہتے ہیں؟ دہلی کے سب سے حساس علاقے میں بیٹھ کر راہول گاندھی جو کر رہے ہیں، وہ سراسر افراتفری ہے ۔”