شہرت بل کی مخالفت کرنے والے ایڈیٹرس کے خلاف شکایت‘ مرکز نے آسام سے کاروائی کا کیا استفسار

شکایت میں جن ایڈیٹرس کا نام شامل ہے انہوں نے اس کو اظہار خیال کی آزادی اور صحافت پر کارضرب قراردیا ہے۔ تین سے دو سٹیزن شپ( ترمیم) بل پر شدید تنقید کی ہے

نئی دہلی۔ وزرات برائے داخلی امور( ایم ایچ اے) نے ایک شکایت پر آسام حکومت سے استفسار کیا ہے کہ وہ تین ایڈیٹرس کے خلاف ’’ ضروری کاروائی کرے‘‘ جو سٹیزن شپ ترمیم بل2016کے منظرعام پر آنے کے بعد سے ریاست میں الفا تحریک کو فروغ دینے والی شدت پسند نظریات پر مشتمل پروپگنڈہ کیاہے۔

مذکورہ ایم ایچ اے نارتھ ایسٹ ڈویثرن لیٹر بتاریخ16اپریل جس پر سکریٹری سنجیو کمار کی دستخط ثبت ہے اور یہ لیٹرر آسام کمشنر اور سکریٹری ( ہوم اینڈ پولیٹکس) اشوتوش اگنی ہوتری ‘ ڈائرکٹر جنرل آف پولیس کالادھار سائیکی کے نام لکھا گیا ہے ‘میں مہارشٹرا نژاد قانونی حقوق کے مبصر( ایل آر او)ونئے جوشی کی شکایت پر ’’ ضروری کاروائی‘‘ کا استفسار کیاہے۔ اس میں کہاگیا ہے کہ’’ شکایت کردہ کو کاروائی کی راست جانکاری پہنچائی جائے‘‘۔

جوشی نے اپنی شکایت میںآسام کے دوایڈیٹرس نیوز چیانلوں ناتومونی سائیکی برائے پراتدین ٹائم اور اجیت کمار بھویان برائے پراگ نیوز کے نام شامل ہیں۔ اس میں نیوز پورٹل انسائیڈ کے ایڈیٹر افریدا حسین کا نام بھی ہے اور اس کے علاوہ ’’ نیوز18آسامی ٹی وی‘‘کو بھی شامل کیاگیاہے۔

مذکورہ شکایت میں جہدکار منجیت مہنت جس پر جنوری میں سیڈیشن کے تحت کیس درج کیاگیاتھا کے بشمول دانشوار ہرین گوہین اور جہدکار اکھل گوگوئی کے نام بھی شکایت میں شامل ہیں ‘ان پر مبینہ طور سے گوہاٹی میں سٹیزن شپ بل کے خلاف ایک ریالی میں تبصرہ کا الزام عائد کیاگیاہے۔

کردہ جوشی آر ایس ایس کے ساتھ میگھالیہ میں 2010تک کام کیاہے اور اب وہ گوہائی میں مقیم ہے۔ انہو ں نے کہاکہ وہ اب ا ن کی آر ایس ایس سے کوئی وابستگی نہیں ہے جبکہ آیل آر او ایک خود مختار اور قانونی کاروائی کرنے والا گروپ ہے

TOPPOPULARRECENT