مسلم سونا، چاندی کا کاروبار نشانہ، دہشت گردی کا مرکز بن جانے بنڈی سنجے کا الزام
حیدرآباد۔ 4 مارچ (سیاست نیوز) توقع کے مطابق عوامی تائید حاصل نہ ہونے پر تلنگانہ میں بی جے پی مذہبی جارحانہ پالیسی احتیار کررہی ہے۔ اپنی سیاسی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے متنازعہ مسائل کو زیادہ اہمیت دیتے ہوئے ہندو طبقہ کے ووٹوں کو متحد کرنے پر ساری توجہ مرکوز کردی ہے۔ شہر حیدرآباد کے بعد اضلاع میں بھینسہ کو حساس بنانے کے بعد جگتیال کو حساس علاقہ میں تبدیل کرنے کی سازش تیار کی ہے۔ سنگھ پریوار کی تنظیمیں اب اپنی ساری توجہ جگتیال پر دے رہی ہیں اور یہاں اپنی سرگرمیوں کو تیز کردیا ہے۔ حال ہی میں این آئی اے کی کارروائیوں کے بعد اس کو دہشت گردی کے مرکز کے طور پر پیش کرتے ہوئے مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ جگتیال متحدہ ضلع کریم نگر کا اسمبلی حلقہ ہے۔ اس وقت کریم نگر کے تلنگانہ بی جے پی کے صدر بنڈی سنجے نمائندگی کررہے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں جگتیال کا دورہ کیا ہے اور جگتیال میں بی جے پی کو مستحکم کرنے کے لئے بی جے پی کے علاوہ کثیر ہندوتوا تنظیموں کا علیحدہ اجلاس طلب کیا اور تازہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بنڈی سنجے نے کہا کہ شہر جگتیال دہشت گرد سرگرمیوں کا مرکز بن گیا ہے۔ پی ایف آئی کی جگتیال میں سرگرمیاں بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ اس کی روک تھام میں ریاستی حکومت پوری طرح ناکام ہوگئی ہے۔ تاہم مرکزی حکومت پی ایف آئی کی سرگرمیوں کو آہنی پنجہ سے کچلنے کے لئے بڑے پیمانے پر کام کررہی ہے۔ بنڈی سنجے نے کانگریس اور بی آر ایس پر الزام عائد کیا کہ وہ ووٹ بینک کی خاطر پر ایف آئی کی مالی امداد کررہے ہیں۔ چند ماہ قبل جگتیال میں ایک مسلم سونے کے تاجر کی جانب سے سونے چاندی کی دوکان لگانے پر مقامی ہندو سونے چاندی کے تاجرین نے اس کی سخت مخالفت کرتے ہوئے احتجاج کیا تھا جس کی نظام آباد حلقہ لوک سبھا کی نمائندگی کرنے والے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ڈی اروند نے بھی سخت مذمت کی تھی۔ انہوں نے ہندو تاجرین سے اظہار یگانگت کرنے جگتیال پہنچنے کی کوشش کی تھی۔ تاہم پولیس نے انہیں درمیان میں روک کر نظام آباد لوٹا دیا تھا۔ جس پر ڈی اروند نے حکومت اور پولیس پر اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ اسمبلی حلقہ جگتیال نظام آباد لوک سبھا حلقہ حدود میں شامل ہے۔ ن