شہر حیدرآباد ریاست تلنگانہ کیلئے ’ سونے کی کان ‘ اکبر اویسی

   

شہر کو ترقی دینے حکومت سے فراخدلانہ موقف اختیا رکرنے کی اپیل
حیدرآباد2 اگسٹ (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد ‘ تلنگانہ کیلئے سونے کی کان سے کم نہیں ہے اسی لئے اس شہر کی ترقی میں حکومت کو فراخ دلی سے کام لینا چاہئے ۔ شہر میں موجود تاریخی و تہذیبی مقامات کی فہرست کا مشاہدہ کرکے ان کی حفاظت اور انہیں سیاحتی مقامات کے طور پر ترقی دینے اقدامات کئے جانے چاہئے تاکہ تلنگانہ کو بغرض سیاحت پہنچنے والوں کو راغب کیا جاسکے۔ قائد مقننہ مجلس اکبر الدین اویسی نے شہر کی ترقی پر اسمبلی میں مباحث میں حصہ لیتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ شہر میں عوامی نظام حمل و نقل کو بہتر بنانے کے اقدامات کی ضرورت ہے کیونکہ سابق میں شہر میں 4000 بسیں ہوا کرتی تھیں لیکن اب محض 2000 بسیں چلائی جا رہی ہیں اور خواتین کیلئے مفت بس سفر کی سہولت کے بعد خواتین کی بسوں میں تعداد میں اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجہ میں دیگر مسافرین کو مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ میں موجود حسین ساگر سے متعلق مقدمہ کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس کے اطراف تعمیرات کو منہدم نہیں کیا جاسکتا لیکن شہر میں جو تالاب اور پہاڑ موجود ہیں انہیں محفوظ کرنے اقدامات کئے جانے چاہئے ۔ اکبر اویسی نے پیشرو بی آر ایس حکومت سے درج فہرست تہذیبی عمارتوں کو منسوخ کرکے ان کو محفوظ تہذیبی ورثہ کی فہرست سے خارج کرنے کا حوالہ دیا اور کہا کہ سابق حکومت میں تہذیبی ورثہ کو تباہ کیا گیا ۔ انہوں نے شہر میں آبرسانی و سیوریج لائن کو علحدہ کرنے منصوبہ کا تذکرہ کرکے کہا کہ اس کیلئے 5000 کروڑ درکار ہیں اگر حکومت سے اس کو منظوری دے کر مرحلہ وار انداز میں مکمل کرنے اعلان کیا جاتا ہے تو شہر کی ترقی میں یہ اہم سنگ میل ثابت ہوگا ۔ انہو ںنے چیف منسٹر ریونت ریڈی سے درخواست کی کہ وہ کم از کم اس منصوبہ پر عمل کا آغاز کریں ۔ اکبر الدین اویسی نے کہا کہ حیدرآباد نے اب تک جو کھویا وہ کھوچکے ہیں اور اب جو بچا ہے اسے بچانے اقدامات کئے جانے چاہئے ۔ انہوں نے دواخانہ عثمانیہ کی نئی عمارت کی تعمیر اور پرانی عمارت کے تحفظ کے اقدامات پر بھی توجہ دلوائی ۔3