واشنگٹن :امریکی ڈاکٹروں نے صدر جو بائیڈن کو صحت مند اور مضبوط قرار دیا ہے۔ 80 برس کی عمر میں وہ بطور صدر خدمات انجام دینے والے معمر ترین شخص ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ وہ 2024 کے انتخابات کے لیے بھی تیار ہیں۔16 فروری جمعرات کے روز تین گھنٹے کے جسمانی طبی معائنے کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن کو ڈیوٹی کی انجام دہی کے لیے فٹ قرار دے دیا گیا۔چونکہ 80 سالہ معمر صدر نے ممکنہ دوسری مدت کے لیے 2024 میں اپنی متوقع انتخابی دوڑ کی تیاریاں شروع کر دی ہیں، اس لیے ان کے ٹسٹ کے نتائج کا شدت سے انتظار کیا جا رہا تھا۔میری لینڈ کے والٹر ریڈ نیشنل ملٹری میڈیکل سینٹر میں وسیع تر جانچ کے دوران نسبتاً بعض معمولی مسائل پائے گئے، جس میں ان کے سینے میں موجود ایک بہت ہی معمولی قسم کے زخم کو ہٹانا بھی شامل تھا۔تاہم ڈاکٹروں نے انہیں پھیپھڑے کی بیماری سے پاک قرار دیا کیونکہ گزشتہ برس انہیں دو بار کووڈ19 کی شکایت ہوئی تھی اور اب ماہرین کا کہنا ہے کہ ان میں ایسی کوئی علامت نہیں پائی گئی۔بائیڈن کے ڈاکٹر کیون او کی رپورٹ کو وائٹ ہاؤس نے شائع کیا ہے، جس میں کہا گیا، صدر بائیڈن ایک صحت مند اور مضبوط قسم کے 80 سالہ مرد ہیں، جو صدارتی فرائض کو کامیابی کے ساتھ نبھانے کے لیے موزوں ہیں۔ ان فرائض میں چیف ایگزیکٹو ہونے کے ساتھ ہی ان کے حکومت کے سربراہ اور کمانڈر ان چیف ہونے کی ذمہ داریاں بھی شامل ہیں۔ڈاکٹر نے مزید کہا کہ بائیڈن میں کسی بھی سنگین اعصابی مسائل جیسے کہ فالج، متعدد قسم کی نَسیج کی سَختی، پارکنسنز (لرزہ طاری ہونے جیسی اعصابی شکایت) یا ابھرتی ہوئی لیٹرل سکلیروسیس سے پوری طرح پاک ہیں۔جو بائیڈن امریکی صدر کے طور پر خدمات انجام دینے والے اب تک کے سب سے معمر شخص ہیں۔ گزشتہ ہفتے پی بی ایس کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ جو بھی اپنی عمر کے بارے میں فکر مند ہے اسے ’’مجھے بطور صدر’’دیکھنا چاہیے۔تاہم کئی سروے یہ بھی بتاتے ہیں کہ ووٹروں میں ان کی اہلیت کے بارے میں اس طرح کے خدشات بھی ہیں کہ اگر وہ دوسری مدت کے لیے جیت جاتے ہیں، تو مزید چار برس اس عہدے پر برقرار رہ سکیں گے یا نہیں۔ دوسری مدت کے عہدہ صدارت کے اختتام تک وہ 86 برس کے ہو جائیں گے، جو امریکہ میں مردوں کی اوسط متوقع عمر سے 13 برس زیادہ ہے۔