شاخیں رہیں تو پھول بھی پتے بھی آئیں گے
یہ دن اگر برے ہیں تو اچھے دن بھی آئے گے
تین بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں کی تین اسمبلی نشستوں کیلئے ضمنی انتخاب کے نتائج کا اعلان ہوگیا ہے ۔ ان میں بی جے پی کو محض گجرات کی ایک نشست پر کامیابی حاصل ہوئی ہے جبکہ بہار میں بی جے پی کو اس نشست پر شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جس پر اس کا تقریبا تین دہوں سے قبضہ تھا ۔ گذشتہ اسمبلی انتخابات میں نتن نابن نے اس نشست پر اپنا قبضہ برقرار رکھا تھا ۔ نتن نابن کو اب بی جے پی کا قومی صدر بنادیا گیا ہے اور وہ راجیہ سبھا کیلئے منتخب ہوچکے ہیں ۔ان کے استعفے کی وجہ سے یہ نشست خالی ہوئی تھی جس پر ضمنی انتخاب ہوا اور جن سوراج پارٹی کے سربراہ پرشانت کشور نے اس نشست سے پہلی بار مقابلہ کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی ہے ۔ جن سوراج پارٹی نے اسمبلی انتخابات میں ریاست کی تمام نشستوں پر مقابلہ کیا تھا لیکن وہ ایک بھی نشست حاصل نہیں کرپائی تھی ۔ اس وقت پرشانت کشور نے مقابلہ نہیں کیا تھا ۔ اسی طرح مدھیہ پردیش کے ڈاٹیا حلقہ میں بھی بی جے پی کو شکست ہوئی ہے اور کانگریس نے اس پر اپنا قبضہ برقرار رکھا ہے ۔ یہ نشست سابق میں بی جے پی کے سابق ریاستی وزیر داخلہ نروتم مشرا کے قبضہ میں تھی ۔ تاہم گذشتہ اسمبلی انتخابات میں اسے کانگریس نے جیت لیا تھا ۔ کانگریس رکن اسمبلی کو ایک مقدمہ میں سزاء کے بعد نااہل قرار دیا گیاتھا جس کی وجہ سے ضمنی انتخاب ہوا اور کانگریس کے امیدوار کنور گھنشیام سنگھ نے بی جے پی کے آشوتوش تیواری کو شکست دیدی ۔ پرشانت کشور نے بی جے پی کے امیدوار منوج کمار سنہا کو شکست دیتے ہوئے اپنی کامیابی درج کروائی ۔ گجرات کی منجلپور نشست پر بی جے پی نے اپنا قبضہ برقرار رکھا ہے ۔ ستیش پٹیل نے اس نشست کو جیت لیا ہے ۔ حالانکہ ان انتخابات میں بی جے پی کو بہار کی بانکی پور نشست کا ہی نقصان ہوا ہے تاہم یہ نقصان اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اسے بی جے پی کے قومی صدر نے خالی کیا تھا اور اس پر تین دہوں سے پارٹی کا قبضہ رہا تھا ۔ اس بار پارٹی اپنا قبضہ برقرار رکھنے میں یکسر ناکام ہوگئی ہے ۔
ان ضمنی انتخابات کی اہمیت اس لئے بھی بہت زیادہ ہوگئی ہے کیونکہ یہ حالیہ وقتوں میں دہلی کے جنتر منتر پر طلباء اور نو جوانوں کے احتجاج کے بعد ہوئے تھے ۔ یہ قیاس کیا جا رہا تھا کہ نوجوانوں کے احتجاج کا انتخابی نتائج پر اثر ہوگا اور نتائج سے یہ بات درست بھی ثابت ہوئی ہے ۔ خود بہار میں بھی نوجوانوں کی بڑی تعداد نے کئی اضلاع میں احتجاج کیا تھا ۔ اس احتجا ج کو بھی طاقت کے ذریعہ کچل دیا گیا تھا اور بہار میں تو احتجاجیوں پر اے کے 47 کے ذریعہ فائرنگ کی گئی تھی ۔ یہ صورتحال بی جے پی کیلئے مشکل ہوگئی تھی کیونکہ نوجوانوں اور طلباء میں بی جے پی کے خلاف ناراضگی اور برہمی پیدا ہوگئی تھی ۔ پیپر لیک مسئلہ پر ویسے بھی بی جے پی کے خلاف ناراضگی پیدا ہوگئی تھی اور احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے زیادتیوں اور طاقت کے استعمال کی وجہ سے یہ ناراضگی مزید بڑھ گئی تھی ۔ بی جے پی اس صورتحال سے بہتر طور پر نمٹنے میںناکام رہی تھی اور اسی کا نتیجہ تھا کہ اسے بانکی پور جیسے اپنے گڑھ میں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ ڈاٹیا میں بھی پارٹی اپنی واپسی کرنے میںناکام رہی اور کانگریس نے اس پر اپنا قبضہ برقرار رکھا ہے ۔ یہ نتائج بی جے پی کیلئے یہ پیام ہیں کہ نوجوانوںاور طلباء میں اس کے خلاف ناراضگی پیدا ہوگئی ہے اور یہ صرف دکھاوے کی ناراضگی نہیں ہے بلکہ حقیقی معنوں میں نوجوان پارٹی سے دور ہو رہے ہیں اور وہ بی جے پی کے خلاف ووٹ کرنے سے بھی گریز نہیں کر رہے ہیں۔
نوجوان ووٹرس ہمیشہ سے بی جے پی کی طاقت رہے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی ہمیشہ سے انتخابات کے موقع پر نوجوان ووٹرس کو رجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ پہلی مرتبہ ووٹ ڈالنے والوں سے مخاطب کرتے ہیں اور ان کے ووٹ بڑی حد تک حاصل کرتے ہیں۔ تاہم مدھیہ پردیش میں ڈاٹیا اور بہار میں بانکی پور کے نتائج نے واضح کردیا ہے کہ اب یہ اہمیت کا حامل گروپ اب بی جے پی سے دور ہونا شروع ہوگیا ہے اور بی جے پی کو اب انہیںرجھانے کیلئے کوئی نئی حکمت عملی بنانی ہوگی ۔