طبقاتی سروے کے ذریعہ تمام طبقات کو انصاف کی فراہمی حکومت کا بنیادی مقصد

   

اسمبلی میں گورنر کے خطبہ پر تحریک تشکر مباحث، کانگریس ارکان اے سرینواس اور ویریشم کی تقاریر
حیدرآباد 13 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت طبقاتی سروے کے ذریعہ تمام طبقات کو فلاحی اسکیمات میں مؤثر نمائندگی کا منصوبہ رکھتی ہے۔ گورنر جشنو دیو ورما نے اپنے خطبہ میں حکومت کی پالیسیوں کو اُجاگر کیا اور عوامی خواہشات اور اُمنگوں کی بھرپور ترجمانی کی ہے۔ گورنر کے خطبہ پر تحریک تشکر پر مباحث کا آج اسمبلی میں آغاز ہوا۔ گورنمنٹ وہپ اے سرینواس نے تحریک تشکر پیش کی جس کی تائید کانگریس رکن وی ویریشم نے کی۔ تحریک میں دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے گورنر کے خطاب پر اظہار تشکر کیا گیا۔ اے سرینواس نے مباحث کا آغاز کرتے ہوئے حکومت کی سماجی انصاف سے متعلق پالیسی کا اعادہ کیا اور کہاکہ انتہائی شفافیت اور سائنٹفک انداز میں طبقاتی سروے مکمل کیا گیا۔ اُنھوں نے کہاکہ طبقاتی سروے کے مطابق پسماندہ طبقات کو 42 فیصد تحفظات کی فراہمی کا فیصلہ کیا گیا۔ اِس کے علاوہ حکومت ایس سی زمرہ بندی پر عمل آوری کا منصوبہ رکھتی ہے۔ اسمبلی کے بجٹ سیشن میں 2 علیحدہ بلز پیش کئے جائیں گے۔ سرینواس نے طبقاتی سروے میں قائد اپوزیشن کے سی آر کے علاوہ بی آر ایس قائدین کے ٹی آر اور ہریش راؤ کی عدم شمولیت پر سخت تنقید کی اور کہاکہ پسماندہ طبقات کی بھلائی سے بی آر ایس قائدین کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اگر بی سی طبقات کو 42 فیصد تحفظات اور ایس سی زمرہ بندی میں بی آر ایس قائدین سنجیدہ ہیں تو اُنھیں حکومت کے فیصلہ کی تائید کرنی چاہئے۔ اے سرینواس نے تلنگانہ کے بی جے پی قائدین اور خاص طور پر مرکزی وزراء سے مطالبہ کیاکہ وہ تلنگانہ کے لئے فنڈس کی اجرائی کے لئے مرکزی حکومت کو راضی کریں۔ اُنھوں نے کہاکہ تلنگانہ ترقی اور فلاح و بہبود کے معاملہ میں ملک کے لئے رول ماڈل بن چکی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ راہول گاندھی کے نظریہ کے عین مطابق تلنگانہ میں طبقاتی سروے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ بی آر ایس قائدین کے پاس گورنر اور اسپیکر کا کوئی احترام نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ تلنگانہ کو ڈرگس سے پاک بنانے کے لئے حکومت سنجیدگی سے اقدامات کررہی ہے۔ بی آر ایس کے 10 سالہ دور حکومت کو عوام پر اضافی بوجھ کا سبب قرار دیتے ہوئے سرینواس نے کہاکہ کے سی آر حکومت نے 7 لاکھ کروڑ کا قرض حاصل کیا جس کے نتیجہ میں ریاست کی معاشی صورتحال کمزور ہوچکی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ کمزور مالی موقف کے باوجود حکومت نے کسانوں کے قرض معافی کے لئے 21 ہزار کروڑ جاری کئے ہیں۔ کانگریس رکن وی ویریشم نے کہاکہ ایک سال میں 57 ہزار سے زائد سرکاری ملازمتوں پر تقررات کانگریس حکومت کا کارنامہ ہے۔ ریاست میں 1.78 لاکھ کروڑ کی سرمایہ کاری کے معاہدات کئے گئے جس کے نتیجہ میں تلنگانہ ترقی کی نئی راہوں پر گامزن ہوگا۔ ویریشم نے الزام عائد کیاکہ بی آر ایس قائدین کو عوام کی جانب سے سبق سکھائے جانے کے باوجود غرور اور تکبر میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ تلنگانہ جہدکاروں کو بی آر ایس حکومت نے نظرانداز کردیا تھا۔ بی آر ایس رکن جگدیش ریڈی اور بی جے پی فلور لیڈر مہیشور ریڈی نے بھی مباحث میں حصہ لیا۔ 1