طبی اخراجات اٹھانے کے لئے برج بھوشن نے جنسی حمایت مانگی تھی

,

   

شکایت کنندگان نے اپنی شہادتوں میں مزیدکہاکہ سنگھ اور اس کے قریبی ساتھیوں نے انہیں گھریلو اور بین الاقوامی دوروں کے دوران مختلف جنسی زیاتیوں کا نشانہ بنایا۔


نئی دہلی۔ بی جے پی کے ایک رکن پارلیمنٹ اوررسلنگ فیڈریشن آف انڈیا(ڈبلیوایف ائی)کے سابقہ صدر برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف درج ایک چارج شیٹ میں چونکا دینے والے خلاصہ ابھر کر سامنے آرہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایک خاتون پہلوان نے الزام لگایا ہے کہ سنگھ نے طبی اخراجات برداشت کرنے کے لالچ دیکر جنسی حمایت کی مانگ کی تھی۔

مذکورہ خاتون پہلوان کے مطابق سنگھ اس سے رجوع ہوا اور کہاکہ وہ اس کے زخم کے علاج کی ادائیگی کرگا مگر اس نے جنسی حمایت کی مانگ کی تھی۔ راؤس ایونیو ضلع عدالت جہاں پر مقدمہ کی سنوائی چل رہی ہے اس میں 1600صفحات پر مشتمل مذکورہ چارج شیٹ دائر کی ہے۔

اس میں شکایت کنندہ کی شہادتوں کو شامل کیاگیا ہے جو سی آر پی سی کی دفعہ 164کے تحت فراہم کی گئی ہیں‘ جو حیران کردینے والے واقعات پر روشنی ڈالتے ہیں۔ اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کواپنے بیان میں اس نے پیش کیاہے۔

چارج شیٹ میں ”پہلوانوں نمبر2“ کے طورپرحوالے دئے جانے والے شکایت کنندگان میں سے ایک نے انکشاف کیاکہ وزن کے زمرے میں فائنلس مکمل کرنے کے بعد ہندوستان واپسی پر سنگھ نے ڈبلیو ایف ائی دفتر اشوک روڈ پر انہیں طلب کیاتھا۔ اس نے دعوی کیاکہ سنگھ نے رسلنگ سے متعلق ان کے زخموں کے میڈیکل اخراجات کی ادائیگی کی تجویز پیش کی اور اس کے لئے جنسی عمل میں منسلک ہونے کی شرط رکھی تھی۔

تاہم اس پہلوان نے مضبوطی کے ساتھ اس پیش قدمی کو مسترد کردیاتھا۔اورشکایت کنندہ جس کی شناخت ”پہلوان نمبر 6“ کے طور پر چارج شیٹ میں ہوئی ہے نے سنگھ پر جنسی حمایت کے لئے پروٹین سپلمینٹ کے لین دین کی کوشش کی تھی۔ اس نے الزام لگایاکہ سنگھ نے اس کی خیریت اور اس کے پریکٹس سیشن کے متعلق جانکاری حاصل کی اور ”مباشرت تفصیلات“ کی مانگ کی۔

شکایت کنندگان نے اپنی شہادتوں میں مزیدکہاکہ سنگھ اور اس کے قریبی ساتھیوں نے انہیں گھریلو اور بین الاقوامی دوروں کے دوران مختلف جنسی زیاتیوں کا نشانہ بنایا۔مزید برآں انہوں نے دعوی کیاکہ سنگھ وجہہ بتاؤ نوٹس جاری کرکے دھمکیاں دیں گے اور انہیں اپنے مطالبات ماننے پر مجبور کریں گے۔

سنگھ نے 6مئی 2023کو این پی ایل کنگس وے کیمپ میں تحقیقات کے دوران اپنی سرکاری رہائش گاہ پر خواتین پہلوانوں سے اکیلے ملنے کی سختی کے ساتھ تردید کی جہاں پر ڈبلیو ایف ائی کا دفتر موجود ہے۔

شکایت کنندگان نے اولمپیک میڈلسٹ ایم سی میری کوم کی قیادت میں حکومت کی جانب سے مقررہ کردہ چھ رکنی نگرانی کمیٹی کے ذریعہ کی تحقیقات کی غیرجانبداری پر بھی تشویش کااظہار کیا ہے۔

پہلوانوں کے بموجب نے سنگھ کے مبینہ اقدامات کونیک نیتی کے ساتھ کیے جانے والے نادانی میں کی گئی حرکتوں کے طور پر کمیٹی کے اراکین نے مسترد کردیاہے‘ اور شکایت کنندگان پر الزام لگایاہے کہ ان کے برتاؤ کے غلط اندازمیں پیش کررہے ہیں۔