عازمین کی تصاویر لینے ‘ بات چیت ریکارڈ کرنے اور ویڈیو گرافی کی بھی گنجائش ۔ حج کمیٹی آف انڈیا لا علم یا عمداً خاموش ؟
محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔19۔مئی ۔حج کمیٹی آف انڈیا کے ذریعہ سعودی عرب روانہ ہونے والے عازمین حج کے ساتھ ’جاسوس‘ بھی روانہ کیا گیا ہے!حج کمیٹی نے حج 2026 کے عازمین حج کی سہولت کے نام پر جو ’اسمارٹ واچ‘ انہیں دی ہے وہ نہ صرف عازمین حج کی حرکات و سکنات پر نظر رکھ رہی ہے بلکہ عازمین حج کی بات چیت کو بھی کوئی سن رہا ہے۔ حجاج اکرام کے استعمال کیلئے دی گئی ’اسمارٹ واچ‘ دراصل حجاج اکرام کو کوئی فائدہ پہنچا رہی ہے یا نہیں یہ علیحدہ بحث ہے لیکن 1.20لاکھ حجاج کا ڈاٹا اور ان کی نقل وحرکت کے علاوہ ان کی بات چیت سننے اور ان کے آس پاس کی تصاویر لینے میں یہ ’گھڑی‘ انتہائی کارکرد ثابت ہورہی ہے کیونکہ اس گھڑی میں محض ایک ’حج سویدھا ‘ ایپ نہیں ہے بلکہ ساتھ میں اس ’گھڑی‘ میں گھڑی تیار کرنے والی کمپنی Sekyo کا ایپ بھی ہے جو کہ گھڑی پہننے والے ہر شخص کی حرکات و سکنات کے علاوہ ان کی بات چیت تک رسائی حاصل کرنے اس کے اطراف واکناف کی تصاویر و ویڈیو لینے کا اہل ہے۔ اس گھڑی کے سلسلہ میں حج کمیٹی کے ذمہ داروں کی جانب سے عازمین پر اس بات کا دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ وہ منیٰ روانگی سے قبل ’اسمارٹ واچ‘ کو اپڈیٹ کرتے ہوئے اس کا استعمال شروع کردیں تاکہ انہیں منیٰ میں داخلہ کا اجازت نامہ حاصل ہوسکے۔ ہندستان سے تعلق رکھنے والی ایک خانگی کمپنی کی جانب سے تیار کردہ ’اسمارٹ واچ‘ کے ایپ میں جو صلاحیتیں موجود ہیں اس کے مطابق اس واچ کے ذریعہ نہ صرف پہننے والے اطراف و اکناف کے ماحول و مقامات کی تصاویر ایپ کے ذریعہ کسی بھی مقام سے لی جاسکتی ہیں بلکہ ان تصاویر اور ویڈیو کو کسی کے ساتھ شیئر بھی کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ گھڑی باندھے ہوئے شخص کے اطراف واکناف میں ہونے والی گفتگو کو بھی نہ صرف سنا جاسکتا ہے بلکہ اسے ریکارڈ کیا جاسکتا ہے۔ حج کمیٹی آف انڈیا نے اس گھڑی کے حصول سے قبل اگر اس میں موجود ٹیکنالوجی کے متعلق معلومات حاصل نہیں کی تھی یا مرکزی وزارت خارجہ نے ان معلومات کے حصول میں کوتاہی کی ہے تو 1لاکھ 20ہزار عازمین حج کے ساتھ مرکزی حکومت اور حج کمیٹی آف انڈیا نے نادانستہ طور پر ایک ایسا جاسوس روانہ کردیا ہے جو کہ ہندستانی عازمین حج کے ذریعہ سعودی عرب بالخصوص مکہ مکرمہ اور حج کے دوران تمام مقامات تک رسائی حاصل کرنے کا متحمل ہوگا۔ اگر مرکزی حکومت بالخصوص وزارت اقلیتی امور اور حج کمیٹی آف انڈیا نے اس بات سے لاعلم رہتے ہوئے عازمین حج کو یہ گھڑیاں حوالہ کی ہیں تو حج کمیٹی آف انڈیا اور مرکزی وزارت اقلیتی امور کو فوری طور پر اس کمپنی سے تمام ڈاٹا جو اب تک ایپ کے ذریعہ حاصل کیا گیا ہے اسے قرق کرکے کمپنی کے خلاف قانونی کاروائی کرنی چاہئے ۔ واضح رہے کہ دوران حج سعودی عرب میں قوانین انتہائی سخت ہوتے ہیں اور حج 2026کے دوران حکومت سعودی عرب نے حرمین میں تصویر کشی اور ویڈیو گرافی پر پابندی عائد کرنے کے علاوہ کسی بھی طرح کے حادثہ کے دوران ویڈیو گرافی پر بھی سخت پابندی عائد کی ہوئی ہے لیکن ہندستانی عازمین حج کی کلائی پر حکومت کی جانب سے باندھی گئی ’گھڑی‘ میں موجود ایپ ’چوری چوری‘ حجاج اکرام کے اطراف واکناف کی تصویر کشی کررہا ہے بلکہ ان کی گفتگو بھی سن رہا ہے۔ GPS ٹکنالوجی کے ماہرین کا کہناہے کہ عازمین حج کی رہنمائی کیلئے اس گھڑی کو لازمی قرار دینے کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے کیونکہ فون میں موجود جی پی ایس کے ذریعہ عازمین کی نہ صرف رہنمائی کی جاسکتی ہے بلکہ اگر کوئی ’الرٹ ‘ جاری کرنا ہو تو وہ بھی فون کے ذریعہ ہی ممکن ہے تو پھر کیوں ’اسمارٹ واچ ‘ دی گئی ہے ۔ حج کمیٹی آف انڈیا اور ہندستانی حج مشن کی جانب سے عازمین حج کو ’منیٰ‘ روانہ ہونے سے قبل اس گھڑی کو اپڈیٹ کرتے ہوئے اسے استعمال میں لانے اور کارکرد بنانے کیلئے ڈالے جانے والے دباؤ کے نتیجہ میں اس ’اسمارٹ واچ ‘ کے لزوم کو عائد کئے جانے کے معاملہ میں حج کمیٹی اور مرکزی وزارت پر بھی شبہات پیدا ہونے لگے ہیں۔ ’اسمارٹ واچ‘ میں اگر محض ’حج سویدھا ایپ ‘ ہوتا اور حکومت یا حج کمیٹی کی اس ایپ تک رسائی ہوتی تو کسی بھی طرح کے شبہات کی گنجائش نہیں ہوتی لیکن خانگی ایپ کے ذریعہ عازمین حج کی نقل و حرکت اور ان کی گفتگو سننے کی سہولت نے کئی شبہات پیدا کردیئے ہیں۔ موجودعالمی حالات کے دوران کیمرے کے ساتھ ’گھڑی‘ عازمین کے ہاتھوں پر باندھنے کے لئے انہیں مجبور کیا جانا شکوک و شبہات کو جنم دینے کے لئے کافی ہے لیکن اگر مرکزی حکومت کی جانب سے اس سلسلہ میں فوری طور پر وضاحت کی جاتی ہے اور ’اسمارٹ واچ سربراہ کرنے والی کمپنی سے تفصیلات حاصل کرتے ہوئے خانگی ایپ کو منقطع کیا جاتا ہے تو یہ ’گھڑی ‘ استعمال کے قابل رہے گی ۔