عالمی انفرا اسٹرکچر کیلئے 600ارب ڈالر مختص کرنے G7 کا اعلان

   

2027 تک عالمی بنیادی ڈھانچے کی سرمایہ کاری میں بھاری رقم جمع کرنے کا منصوبہ
یوکرین کیلئے مزید مالی اور فوجی امداد اور تعمیر نو پر بھی غور وخوض

فرنکفرٹ :امریکی صدر جو بائیڈن نے چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کے مقابلے میں جی7 منصوبے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت غریب ممالک میں عالمی انفراسٹرکچر پروگرام کے لیے تقریباً 600 ارب ڈالر جمع کیے جائیں گے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس نے جو بائیڈن کی اس تجویز کی نقاب کشائی سے کچھ دیر قبل بتایا کہ جی7 شراکت داروں کے ساتھ مل کر ہم 2027 تک عالمی بنیادی ڈھانچے کی سرمایہ کاری میں 600 ارب ڈالر جمع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔بائیڈن نے کہا کہ چینی خاکے کے برعکس، ریاست کے زیر کنٹرول فنڈز اور کمپنیوں پر انحصار کرتے ہوئے امریکہ اور دیگر جی7 حکومتیں صرف محدود رقم فراہم کریں گی جبکہ نجی شعبے کو بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ترغیب دی جائے گی۔وائٹ ہاؤس نے کہا کہ اب سے 2027 کے درمیان امریکی حکومت 600 ارب ڈالر کے اکٹھا کرنے کے لیے گرانٹس، وفاقی فینانسنگ اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری سے فائدہ اٹھائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف شروعات ہو گی، امریکہ اور اس کے جی7 پارٹنرز دوسرے ہم خیال شراکت داروں، کثیر الجہتی ترقیاتی بینکوں، ترقیاتی مالیاتی اداروں، خودمختار فنڈز اور سینکڑوں ارب اضافی سرمایہ جمع کرنے کی کوشش کریں گے۔جرمن الپس میں جی7 سربراہی اجلاس سے پہلے ایک ملاقات میں بائیڈن نے یوکرین کے خلاف روس کی جنگ کے تناظر میں جرمنی کے چانسلر اولاف شولز کی قیادت کی تعریف کی اور مغربی ممالک پر زور دیا کہ وہ متحد رہیں۔انہوں نے جرمن چانسلر کو کہا کہ ہمیں ساتھ رہنا ہے، روسی صدر ولادیمیر پوٹن امید کر رہے ہیں کہ کسی طرح نیٹو اور جی 7 ٹوٹ جائیں گے لیکن ہم الگ نہیں ہوں گے۔بائیڈن نے اپنے جرمن میزبان سے دلکش ایلماؤ کیسل میں ملاقات کی جہاں گروپ آف سیون برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان اور امریکہ، یوکرین کے بحران کے حوالے سے تین روزہ سربراہی کانفرنس کا انعقاد کر رہے تھے۔بائیڈن نے اولاف شولز کو بتایا کہ آپ نے چانسلر بننے کے بعد جو کچھ کیا اور جس طرح سے آپ نے یورپ کے باقی حصوں پر خاص طور پر یوکرین کے حوالے سے بہت اثر ڈالا، اس حوالے سے میں آپ کی تعریف کرنا چاہتا ہوں۔ایک سینئر امریکی اہلکار نے کہا کہ اتوار کو ہو ئی اس بات چیت میں دونوں ممالک کے درمیان گہرے اور پائیدار تعلقات کی توثیق کا ایک اچھا موقع فراہم ہوا ، ملاقات کے ایجنڈے کے لحاظ سے توقع ہے کہ روس اور یوکرین گفتگو میں سرفہرست ہوں گے جس میں سیاسی اور سفارتی محاذ پر ہماری مسلسل قریبی ہم آہنگی رہی ہے۔جب7 امیر ترین ممالک کے گروپ کے رہنما باویرین الپس میں میٹنگ کر رہے تھے، تو ان کی بات چیت اس بات پر مرکوز تھی کہ روس کے حملے کے خلاف یوکرین کی حمایت کیسے جاری رکھی جائے۔برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا کہ برطانیہ، کینیڈا، جاپان اور امریکہ کی طرف سے مشترکہ کارروائی کی گئی ہے، امریکہ کی جانب سے روسی سونے کی برآمدات پر پابندی سے براہ راست روسی اشرافیہ کو نشانہ بنایا جائے گا جس سے صدر پوٹن کی اس جنگ پر براہ راست اثر پڑے گا۔