عام انتخابات میں بی جے پی قائدین اثر انداز ہونے میں ناکام

   

پرشانت کشور کے ذریعہ بی جے پی کے نظریہ کو فروغ دینے کی کوشش
حیدرآباد۔24۔ مئی ۔ (سیاست نیوز) ملک میں جاری عام انتخابات پر بھارتیہ جنتا پارٹی قائدین کے اثرانداز ہونے میں ناکامی کے بعد اب بھارتیہ جنتا پارٹی انتخابی حکمت عملی تیار کرنے والے پرشانت کشور کے ذریعہ ملک میں بی جے پی کی کامیابی کے نظریہ کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ اب تک ہونے والے 5 مرحلوں کی رائے دہی کے دوران ہندستان بھر میں عوام نے بی جے پی کو مسترد کردیا ہے اور وزیر اعظم کے علاوہ سرکردہ بی جے پی قائدین کی تقاریر اور بیانات سے یہ بات واضح ہونے لگی ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو عام انتخابات میں شکست کا خوف لگا ہوا ہے ۔ بی جے پی قائدین کے بیانات اور ان کی تقاریر کے منفی اثرات کو دیکھتے ہوئے گذشتہ چند یوم سے اچانک آئی۔پیاک کے بانی اور 2014 عام انتخابات کے دوران نریندرمودی کو وزیر اعظم بنانے کی سیاسی حکمت عملی کے ساتھ ساتھ انتخابی تشہیر کی منصوبہ بندی کرنے والے پرشانت کشور کے انٹرویوز قومی ذرائع ابلاغ اداروں کی جانب سے نشر کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ بھارتیہ جنتاپارٹی300 سے زائد نشستوں پر کامیابی حاصل کر رہی ہے تاکہ مابقی مرحلہ کے انتخابات میں رائے دہندوں کے ذہنوں میں یہ احساس پیدا کیا جائے کہ اپوزیشن اتحاد کو قومی سطح پر کوئی عوامی تائید حاصل نہیں ہورہی ہے حالانکہ ہندستان میں ان دو مرحلوں کے دوران 115 نشستوں پر انتخابات ہونے باقی ہیں اور تاحال 428 نشستوں پر رائے دہی کا عمل مکمل کیا جاچکا ہے۔25مئی اور یکم جون کو منعقد ہونے والے دو مرحلوں کے دوران 115 نشستوں پر اثر انداز ہونے کے لئے کی جانے والی ان کوششوں کے ذریعہ عوام کو یہ باور کروایا جارہا ہے کہ اب تک 428 نشستوں پر ہوئے انتخابات میں انڈیا اتحاد نے کوئی بہتر مظاہرہ نہیں کیا ہے حالانکہ 2024 عام انتخابات کے لئے قومی سطح پر عوام نے ذہن بنا لیا تھا اور مخالف بھارتیہ جنتا پارٹی ووٹ کے استعمال میں بیشتر تمام ریاستوں نے ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے جس کے نتیجہ میں بی جے پی قائدین کی فرقہ پرستی کا بھی کوئی اثر نہیں دیکھا گیا ۔آخری دو مرحلوں سے عین قبل 2014 میں مودی کے لئے کام کرنے والے پرشانت کشور کے انٹرویوز اور اپوزیشن اتحاد کی اہمیت کو گھٹاتے ہوئے پیش کرنے کی کوششوں کے متعلق سیاسی ماہرین کا کہناہے کہ ان انٹرویوز کے ذریعہ ملک کے عوام کو آئندہ دو مرحلوں کے دوران مخمصہ کا شکار بناتے ہوئے انہیں بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب راغب کرنے کی کوشش ہے لیکن اس میں بی جے پی کو کوئی کامیابی حاصل ہونے کا امکان نہیں ہے کیونکہ انتخابات کے پہلے اور دوسرے مرحلہ کے دوران ہی بی جے پی قائدین کی بوکھلاہٹ سے ہی ملک بھر کے رائے دہندوں نے نتیجہ اخذ کرلیا تھا اور ا ن5 مرحلوں کے دوران عوام کی بڑی تعداد نے برسراقتدار جماعت کے خلاف ووٹ کا استعمال کیا ہے۔3