Wednesday , February 26 2020

عبادت گاہ کس کی ہے عبادت کون کرتا ہے

رام مندر کیلئے ٹرسٹ… بی جے پی کا انتخابی حربہ
شاہین باغ کو دھمکیاں … کشمیری قائدین 6 ماہ سے نظربند
دہلی میں عاپ کو سبقت … ترقی بمقابلہ منافرت

رشیدالدین

انتخابات کے ساتھ ہی بی جے پی کو فرقہ وارانہ ایجنڈہ یاد آجاتا ہے ۔ عوام کے مذہبی جذبات مشتعل کر کے ہندو مسلم کی بنیاد پر رائے دہی میں بی جے پی مہارت رکھتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ عوام فرقہ وارانہ ایجنڈہ سے عاجز آچکے ہیں۔ وہ ترقی و بھلائی چاہتے ہیں۔ نریندر مودی نے سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ لگایا ضرور تھا لیکن عمل اس کے برعکس کیا گیا ۔ عوام نے سب کے وکاس کو اختیار کرتے ہوئے مذہبی سیاست کو مسترد کرنے کا من بنالیا ہے ۔ جب کبھی الیکشن آئے بی جے پی فرقہ وارانہ متنازعہ موضوعات کیوں چھیڑ دیتی ہے؟ ظاہر ہے کہ جب کارکردگی صفر ہو اور عوام کو دکھانے کیلئے کوئی کارنامہ نہ ہو تو پھر مذہبی ایجنڈہ کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔ 2014 ء کے عام چناؤ میں اچھے دن کا خواب دکھایا گیا لیکن بتدریج ہندوتوا ایجنڈہ پر عمل آوری کا آغاز ہوا۔ مختلف ریاستوں کے اسمبلی چناؤ میں ترقی کے بجائے ہندوتوا ایجنڈہ کی بنیاد پر کامیابی حاصل کی گئی ۔ مرکز میں پانچ سال ترقی کے بغیر گزر گئے اور 2019 ء میں فرقہ وارانہ نظریات کا زہر ملک میں کچھ اس طرح گھول دیا گیا کہ بی جے پی کو واضح اکثریت حاصل ہوگئی۔ دوسری میعاد کے آغاز کے ساتھ ہی فرقہ پرستی کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگا ۔ پنجاب ، راجستھان ، مدھیہ پردیش ، چھتیس گڑھ اور جھارکھنڈ کے عوام نے فرقہ وارانہ ایجنڈہ کو مسترد کردیا اور اب دہلی کی باری ہے ۔ دہلی میں کارکر دگی کا مقابلہ جذباتی نعروں سے ہے، عوام کو اندازہ ہوچکا ہے کہ محض نعروں سے خوشحالی نہیں آئے گی ، لہذا عوام کی بھلائی میں مصروف عام آدمی پارٹی کے حق میں نتائج کے قوی امکانات ہیں۔ بی جے پی نے دہلی پر قبضہ کرنے کے لئے ساری طاقت جھونک دی ہے ۔ نریندر مودی۔امیت شاہ کی جوڑی نے مہم کی کمان سنبھال لی تھی۔ اروند کجریوال اپنی حکومت کی کارکر دگی کی بنیاد پر ووٹ مانگ رہے تھے تو مودی ، امیت شاہ نے شہریت قانون ، طلاق ثلاثہ ، کشمیر سے 370 کی بر خواستگی اور رام مندر کو انتخابی موضوع بنایا ۔ شہریت قانون اور این آر سی کے خلاف ملک بھر میں جاری عوامی احتجاج کو مسلمانوں سے جوڑ کر ہندو ووٹ بینک متحد کرنے کی کوشش کی گئی۔ مرکز کی پانچ سالہ میعاد میں ایک بھی ایسا کام نہیں کہ جسے کارنامہ کہا جاسکے۔ لہذا یوگی ادتیہ ناتھ اور دیگر قائدین کے ذریعہ منافرت کا زہر پھیلایا گیا۔ ہمیشہ کی طرح پسندیدہ انتخابی موضوع پاکستان کو چھیڑ کر عوام کو باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ شاہین باغ احتجاج اور کجریوال کے ساتھ پاکستان کھڑا ہے۔ پاکستان مخالف حکومت احتجاج کی فنڈنگ کر رہا ہے۔ الغرض انتخابی مہم کو زعفرانی بنانے کوئی کسر باقی نہیں رکھی گئی۔ جب تمام ناکام ہوگئے تو رائے دہی سے تین دن قبل رام مندر کی تعمیر کیلئے ٹرسٹ کا اعلان کیا گیا ۔ انتخابی مہم میں رام مندر کارڈ انتخابی ضابطہ اخلاق کی صریح خلاف ورزی ہے کیونکہ مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے والا کوئی قدم نہیں اٹھایا جاسکتا۔ الیکشن کمیشن کو اس کا نوٹ لینا چاہئے تھا ۔ خیر مودی نے انتخابی مہم میں رام مندر کو ٹرمپ کارڈ کے طور پر استعمال کیا ۔ قانونی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ میں بابری مسجد اراضی فیصلہ کے خلاف کیوریٹیو پیٹیشن کی گنجائش موجود ہے۔ سپریم کورٹ نے 9 نومبر کے فیصلہ میں مندر کی تعمیر کیلئے اندرون تین ماہ ٹرسٹ قائم کرنے کی ہدایت دی تھی۔ عدالت نے مسلم فریقین کی درخواست نظرثانی کو مسترد کردیا اور اب آخری راستہ کیوریٹیو پیٹیشن ہے۔ ظاہر ہے کہ جب تک فریق ثانی کیلئے تمام قانونی راستے بند نہ ہوجائیں ، اس وقت تک عدلیہ میں مسئلہ کو زیر التواء تصور کیا جائے گا ۔ ویسے بھی مسلم فریقوں نے قانونی لڑائی جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ مودی حکومت نے جس طرح مندر کے حق میں عدالت سے فیصلہ حاصل کیا، اسی طرح ٹرسٹ کے ذریعہ تعمیری کام شروع کرنا چاہتی ہے۔ مودی حکومت کو مندر کی تعمیر سے زیادہ دہلی چناؤ میں کامیابی کی فکر ہے۔ ہندوستانی عدلیہ کی تاریخ میں بابری مسجد اراضی فیصلہ ایک سیاہ باب کی طرح یاد کیا جائے گا جس میں عدالت نے ثبوت اور دلیلوں کے بجائے اکثریتی طبقہ کی آستھا کی بنیاد پر فیصلہ سنایا۔ مسجد میں مورتیاں رکھنا اور مسجد کی شہادت کو غیر قانونی تسلیم کیا گیا۔ اتنا ہی نہیں نماز کی ادائیگی کو عدالت نے تسلیم کیا۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ عدالت نے مسلمانوں کے ماتھے پر لگائے گئے اس کلنک کو ہمیشہ کیلئے دھو دیا کہ مندر توڑ کر مسجد تعمیر کی گئی تھی۔ ان تمام حقائق کے باوجود فیصلہ مندر کے حق میں دیتے ہوئے سجدہ گاہ کو بت خانہ میں تبدیل کرنے کی اجازت دے دی۔ یہ تو ایسی مثال ہے جیسے کسی نے گھر پر قبضہ کے خلاف انصاف کیلئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تو عدالت یہ کہہ کہ یقیناً مکان آپ کا ہے ۔ دستاویزی ثبوت بھی آپ کے حق میں ہیں لیکن ہم قابض کو مکان کی ملکیت دیتے ہوئے آپ کو متبادل اراضی فراہم کرتے ہیں۔ اگر حکومت کے دباؤ اور اکثریتی طبقہ کی آستھا کی بنیاد پر فیصلے ہونے لگیں تو ملک میں مزید 3000 مساجد کا کیا ہوگا، جن پر سنگھ پریوار کی دعویداری ہے۔ تاج محل پر بھی مندر ہونے کا دعویٰ پیش کیا گیا ہے۔
مسجد کیلئے ایودھیا کے مضافات میں 5 ایکر اراضی کی نشاندہی کی گئی لیکن مقامی مسلمانوں نے علاقہ میں پہلے سے کئی مساجد کی موجودگی کے سبب اراضی قبول کرنے سے انکار کردیا ۔ شرعی اعتبار سے مسجد کے عوض میں 5 ایکر تو کیا 500 ایکر اراضی بھی الاٹ کی جائے تو وہ مسلمانوں کیلئے قابل قبول نہیں ہوگی۔ انصاف کا خون کرتے ہوئے مسجد کی اراضی جبراً حاصل کی گئی ہے، لہذا متبادل اراضی کو مسجدکی تعمیر کیلئے قبول کرنا شریعت اور حکمت عملی دونوں کے خلاف ہوگا۔ بی جے پی نے دہلی میں اشتعال انگیز تقاریر کے ذریعہ ثابت کردیا کہ وہ ہندوتوا کارڈ کھیل رہی ہے ۔ الیکشن کمیشن نے کئی قائدین کی مہم پر پابندی عائد کردی۔ احتجاجیوں کو گولی مارنے کے نعرے کو لگائے گئے اور چیف منسٹر اترپردیش یوگی ادتیہ ناتھ نے بولی کے بجائے گولی سے سمجھانے کی بات کہی۔ ظاہر ہے کہ بی جے پی کے پاس اچھے بول نہیں ہیں لہذا اسے لاٹھی اور گولی پر زیادہ یقین ہے۔ امیت شاہ نے دہلی میں چونکا دینے والے نتائج کا دعویٰ کیا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ لوک سبھا انتخابات کی طرح ای وی ایم مشینوں میں پہلے ہی الٹ پھیر کردی گئی ہو۔ پارلیمنٹ کی تمام نشستوں پر دہلی میں بی جے پی کامیاب رہی تھی۔ بی جے پی کو بھلے ہی ای وی ایم مشینوں پر بھروسہ ہو لیکن اس مرتبہ دہلی کے عوام کے فیصلہ کو شائد مشین بھی تبدیل نہیں کرپائیں گے ۔ ملک کی معاشی حالت انتہائی ابتر ہوچکی ہے اور شرح ترقی کی رفتار 5 فیصد سے گھٹ گئی ۔ اگر یہی رفتار رہی تو ملک میں معاشی ایمرجنسی کا اعلان کرنا پڑے گا۔ روز مرہ کے عوامی مسائل اور معاشی بدحالی سے عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے رام مندر کا کارڈ کھیلا گیا۔ نریندر مودی نے احتجاجیوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ تشدد سے گریز کریں۔ مودی گجرات کے چیف منسٹر کی حیثیت سے سرکاری تشدد کو شائد بھول گئے۔ پولیس کی سرپرستی میں مسلم کش فسادات کرائے گئے جس میں مودی کے ساتھ امیت شاہ بھی برابر کے شریک تھے۔ سنگھ پریوار نے ملک میں ہجومی تشدد کے ذریعہ کئی بے قصوروں کو ہلاک کیا لیکن مودی نے مذمت نہیں کی۔ سرکاری سرپرستی میں سنگھ پریوار کے دہشت گرد ملک میں موت کا کھیل کھیلتے رہے لیکن آج انصاف کے لئے پرامن احتجاج کرنے والوں کو تشدد سے باز رہنے کا مشورہ دیا جارہا ہے ۔ اترپردیش اور ملک کے دیگر حصوں میں احتجاجیوں پر پولیس نے تشدد کیا۔ اسی دوران کشمیر میں عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کے خلاف پبلک سیفٹی ایکٹ کی منظوری دی گئی۔ اس قانون کے تحت کسی بھی شخص کو ٹرائل کے بغیر دو سال تک محروس رکھا جاسکتا ہے ۔ فاروق عبداللہ کو پہلے ہی اس قانون کے تحت ماخوذ کیا گیا ہے۔ گزشتہ 6 ماہ سے عوام کے یہ حقیقی نمائندے نظربند ہیں اور پارلیمنٹ میں وزیراعظم کشمیر میں بہتر حالات کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ اگر حالات ٹھیک ہیں تو پھر قائدین کو مزید نظربند رکھنے کی کیا ضرورت ہے۔ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت دو سابق چیف منسٹرس کے خلاف کارروائی یہ ظاہر کرتی ہے کہ وادی میں سب کچھ ٹھیک نہیں اور حکومت کا دعویٰ جھوٹ پر مبنی ہے۔ نیشنل کانفرنس ہو یا پی ڈی پی جب تک ان کی ضرورت رہی بی جے پی نے ان سے مرکز اور ریاست میں اتحاد کیا۔ جب مفاد ختم ہوگیا تو قائدین کو نظربندی کی سزا دی گئی۔ ملک کی کسی بھی ریاست میں 6 ماہ سے زائد عرصہ تک شائد ہی عوام پر تحدیدات عائد کی گئی ہوں ۔ کشمیر اور کشمیریت کی نبض سے واقف غلام نبی آزاد نے صحیح کہا تھا کہ جب تک مرکز میں بی جے پی برسر اقتدار رہے گی اس وقت تک کشمیر کے حالات سدھر نہیں سکتے۔ مودی نے کشمیریت ، انسانیت اور جمہوریت کے واجپائی کے نعرہ کو فراموش کردیا۔ انہوں نے کہا تھا کہ گولی سے نہیں بلکہ میٹھی بولی سے کشمیریوں کو سمجھایا جائے گا ۔ کیا عوام پر تحدیدات اب قائدین کی نظربندی جمہوریت ، انسانیت اور کشمیریت کا حصہ ہے؟ فوج اور سیکوریٹی فورسس کے ذریعہ وقتی طور پر عوام کے جذبات کو قابو کیا جاسکتا ہے لیکن 370 کی برخواستگی کے فیصلہ پر عوام کبھی بھی راضی نہیں ہوں گے ۔ نہ صرف مسلمان بلکہ کشمیر کے غیر مسلم بھی مرکز کے فیصلے کے خلاف ہیں کیونکہ یہ فیصلہ وادی کے مفادات کو پامال کردے گا۔ سیاسی فائدہ کیلئے بی جے پی کی جانب سے مندر کارڈ کھیلنے پر منور رانا نے کچھ اس طرح تبصرہ کیا ہے ؎
ہے میرے دل پہ حق کس کا حکومت کون کرتا ہے
عبادت گاہ کس کی ہے عبادت کون کرتا ہے

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT