جیل میں قید بھائی سے ملاقات کیلئے جانے کے دوران کا رڈیوائیڈر سے ٹکراگئی
لکھنؤ۔6؍اگست ( ایجنسیز )سابق رکن پارلیمنٹ عتیق احمد کے چھوٹے بیٹے آبان احمد سمیت 2 افراد کی سڑک حادثہ میں موت ہو گئی جبکہ 3 کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ میڈیاکے مطابق آبان احمد اپنے بھائی علی احمد سے ملنے پریاگ راج سے جھانسی جیل جا رہے تھے۔ جھانسی کے تھانہ پونچھ علاقے میں ہائی وے پر ان کی کار ڈیوائڈر سے ٹکرا گئی اور دردنک حادثہ ہو گیا۔ واضح رہے کہ علی احمد کو پریاگ راج کے نینی جیل سے یکم اکتوبر 2025 کو جھانسی جیل شفٹ کر دیا گیا تھا تبھی سے وہ یہیں بند ہے۔کار میں پریاگ راج کے پھٹوا کے رہنے والے 28 سالہ احزم ولد محمد فاروق، 30 سالہ محمد زید ولد جاوید احمد، 24 سالہ عمر ولد ارشد، آبان احمد ولد عتیق احمد اور سونو خان سوار تھے۔ اسی دوران راستے میں تھانہ پونچھ علاقے کے کھلّی گاؤں کے پاس ہائی وے پر تیز رفتار کار بے قابو ہو کر ڈیوائڈر سے ٹکرا گئی۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ کار کا اگلا حصہ مکمل طور سے تباہ ہو گیا۔ حادثے میں عتیق احمد کے بیٹے آبان اور سونو خان کی موت ہو گئی ہے جبکہ دیگر 3 لوگوں کو نازک حالت میں جھانسی میڈیکل کالج بھیجا گیا ہے۔ موقع پر پہنچی پولیس آگے کی کارروائی میں مصروف ہو گئی ہے۔میڈیا کے مطابق عتیق احمد کے ایک قریبی رشتہ دار نے بتایا کہ یہ حادثہ جانور کو بچانے کے باعث پیش آیا۔ سامنے اچانگ آ گئے جانور سے بچنے کی وجہ سے کار ڈیوائڈر سے ٹکرا گئی۔ قابل ذکر ہے کہ عتیق احمد کے 5 بیٹے تھے ہیں جن میں سے اسد کو اپریل 2023 میں پولیس نے انکاؤنٹر میں ہلاک کردیا تھا۔ اس کے 2 بیٹے ابھی اسکول میں زیر تعلیم ہیں۔ دوسری جانب علی احمد فی الحال جیل میں بند ہیں۔