اورنگ آباد:سپریم کورٹ نے آج 2 اگست کو بمبئی ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف دائر خصوصی مرافعہ کو خارج کر دیا جس میں مہاراشٹر حکومت کے عثمان آباد شہر کا نام بدل کر دھاراشیو رکھنے کے نوٹیفکیشن کو برقرار رکھا گیا تھا۔ جسٹس رشی کیش رائے اور ایس وی این بھٹی کی بنچ نے مداخلت سے انکار کردیا۔ آج دن بھر مراٹھواڑہ کے ان دو اضلاع کے ناموں کی تبدیلی سے متعلق خبریں گشت کر رہی ہیں کہ سپریم کورٹ نے اورنگ آباد اور عثمان آباد کے ناموں کی درخواستوں کو خارج کردیا۔ حالانکہ ذرائع کے مطابق عدالت کا یہ فیصلہ صرف عثمان آباد سے متعلق ہے۔ حکومت مہاراشٹر نے اورنگ آباد کا نام بدل کر اسے چھترپتی سمبھاجی نگر اور عثمان آباد کا نام بدل کر اسے دھاراشیو کر دیا ہے۔ جس کے خلاف کئی درخواستیں ہائی کورٹ اور اس کے بعد سپریم کورٹ میں داخل کی گئی ہیں۔ اورنگ آباد اور عثمان آباد شہروں کے ساتھ ریونیو علاقوں (ضلع، سب ڈویژن، تعلقہ، گاؤں) کے نام تبدیل کرنے کو چیلنج کرنے ہائی کورٹ میں کئی عرضیاں دائر کی گئیں۔ مرکزی وزارت داخلہ نے 24 فروری 2023 کو اورنگ آباد کا نام تبدیل کرنے کی منظوری دی تھی، جبکہ اس نے پہلے ہی 7 فروری 2023 کو عثمان آباد کیلئے منظوری دے دی تھی۔ اورنگ آباد کے نام تبدیل کرنے کو چیلنج کرنے والی درخواست میں عرضی گزار نے الزام لگایا کہ مہاراشٹرا میں ان تمام شہروں کے ناموں کو تبدیل کرنے کی مہم چلائی جا رہی ہے جن کا مسلم نام ہے۔ تاہم، مہاراشٹرا حکومت نے اس تنازعہ کی تردید کی اور کہا کہ شہر کا نام ایک ایسی شخصیت کے نام پر رکھا گیا ہے جسے پوری ریاست نے بہت زیادہ عزت دی ہے۔چھترپتی سمبھاجی نگر کے معاملے میں اس کا کوئی مذہبی رنگ نہیں ہے۔ تاہم، ہائی کورٹ نے اس نوٹیفکیشن میں مداخلت سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ یہ کسی غیر قانونی یا کسی اور قانونی خرابی کا شکار نہیں ۔ اس حکم کے خلاف درخواست گزاروں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا اور اس حکم کو کالعدم قرار دینے کی کوشش کی۔ انہوں نے غیر قانونی حکم پر روک لگانے کی استدعا بھی کی تھی۔ موجودہ عرضی ایڈوکیٹ آن ریکارڈ پلکت اگروال کے ذریعے دائر کی گئی تھی۔ آج سپریم کورٹ نے سماعت کے دوران یہ بھی کہا ہے کہ اگر نام بدلا گیا تو کچھ لوگ حمایت میں ہوں گے اور خلاف بھی ۔ اسی طرح سپریم کورٹ نے بھی سماعت کے دوران اہم معاملے کو اجاگر کیا ہے۔ نام بدلنا حکومت کا حق ہے۔ اس کیلئے عدالتی نظرثانی کی ضرورت نہیں۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ ہم اس میں مداخلت نہیں کریں گے۔