عدالتی فیصلہ قبول کرلینے مسلمانوں سے افضل انصاری کی اپیل

   

بلیا ۔ 20 ۔ نومبر (سیاست ڈاٹ کام) بہوجن سماج پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ افضل انصاری نے آج مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بابری مسجد کے حوالہ سے دیئے گئے سپریم کورٹ کے فیصلہ کو قبول کرلیں اور اس معاملہ میں کوئی ریویو پیٹیشن عدالت میں داخل نہ کریں کیونکہ اس سے کچھ بھی حاصل ہونے والا نہیں ہے۔ ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رام جنم بھومی بابری مسجد تنازعہ کی وجہ سے ملک کو پہلے ہی بہت زیادہ نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے، لہذا قومی مفاد میں یہ بہتر ہوگا کہ اس مسئلہ کو پیچھے چھوڑ دیا جائے اور ملک کے بنیادی مسائل پر توجہ مرکوز کی جائے ۔ واضح رہے کہ افضل انصاری کا یہ بیان آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے اتوار کو سپریم کورٹ میں پھر سے درخواست نظرثانی داخل کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے گزشتہ اتوار کو منعقدہ اجلاس کے بعد اس بات کا بھی اعلان کیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کی جانب سے مسلمانوں کو دیئے گئے پانچ ایکر اراضی کو بھی قبول نہیں کریں گے ۔ بقول مسلم پرسنل لا بورڈ اس فیصلہ سے بابری مسجد کو ہونے والے نقصانات کی تلافی نہیں ہوسکتی۔ بورڈ نے سپریم کورٹ کے فیصلہ میں مختلف تضادات کی بھی نشاندہی کی ہے۔ تاہم بی ایس پی رکن پارلیمنٹ افضل انصاری کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے پاس سپریم کورٹ کے فیصلہ کو قبول کرنے کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے اور اگر وہ اس معاملہ میں درخواست نظر ثانی داخل کرتے ہیں تو اس سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ وی ایچ پی ، بی جے پی ، آر ایس ایس اور بجرنگ دل کا نہیں ہے بلکہ سپریم کورٹ کے پانچ ججوں پر مشتمل بنچ نے یہ فیصلہ سنایا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک میں دستور ہی سب سے اعلیٰ ہے جس کا ملک کے ہر شہری کو احترام کرنا چاہئے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جس وقت رام جنم بھومی بابری مسجد مقدمہ کی سماعت جاری تھی تو مسلم قائدین اور سماجی کارکنوں نے عہد کیا تھا کہ وہ عدالت کے فیصلہ کو قبول کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ قائدین کیوں اس فیصلہ کو قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں اور سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف ریویو پیٹیشن داخل کرنے کا اعلان کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلہ کے خلاف دوبارہ عدالت میں جانے سے صرف اور صرف ان افراد کو تشفی ہوسکتی ہے جو اس مسئلہ پر سیاست میں ملوث ہیں۔