Tuesday , August 20 2019

علی گڑھ قتل کے بعد‘ گاؤں کے دروازوں پر سیاسی قائدین خوف میں دستک کی ہیں۔

Uttar Pradesh police and PAC at khelam village Bareilly last year communal tention occured. Express Photo by Prem Nath Pandey. 08.08.2018. *** Local Caption *** Uttar Pradesh police and PAC at khelam village Bareilly last year communal tention occured

پچھلے دونوں میں متعدد ہندوتوا کارکن‘ بشمول سادھوی پراچی نے متوفی لڑکی کے گھر کا دورہ اظہار یگانگت کے لئے کیاہے

علی گڑھ ایک دوسال کی بچی کے قتل میں چار ملزمین کے خلاف پولیس چارج شیٹ کی تیاری میں ہے‘ متوگی بچی کے گاؤں میں ڈر اور غیریقینی صورتحال کا ماحول بنا ہوا ہے۔

وہیں کچھ مقامی لوگوں نے کہاکہ انہوں نے اپنے بچوں کو قریب غازی آباد بھیج دیا ہے‘ جبکہ دیگر نے فیصلہ کیاہے کہ وہ اپنے ائی کارڈ ہمیشہ ساتھ رکھیں گے۔

پچھلے دونوں میں متعدد ہندوتوا کارکن‘ بشمول سادھوی پراچی نے متوفی لڑکی کے گھر کا دورہ اظہار یگانگت کے لئے کیاہے۔

اتوار کے روز سادھوی پراچی کو پولیس نے متوفی لڑکی کے گھر والو ں سے ملاقات پر زوردینے کے باوجود روک دیاتھا۔

پیرکے روز کرنی سینا کے کارکن نے گاؤں کا دورہ کیا اور ملزمین کے لئے سزائے موت کی مانگ کی۔

گاؤں کے نوجوانوں کو ایک احتجاج کا ایک پیغام بھی موصول ہوا جس میں ”عصمت ریزی کے خلاف جدوجہد“ کانام تیا جو جمعرات کے روز نئی دہلی کے جنتر منتر پر ایک سماجی

کارکن ہرش چکرا کی جانب سے منعقد کیاگیاہے‘جس نے علاقے کا مبینہ طور پر لوگوں کی بڑی تعداد کے ساتھ دورہ کرنے کی کوشش کی مگر سکیورٹی دستوں نے انہیں روک دیا۔

پردیپ جین جو ایک چھوٹی گروسری کی دوکان چلاتے ہیں نے کہاکہ انہوں نے پچھلے دودنوں سے اپنی دوکان نہیں کھولی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ”مختلف کمیونٹیوں کے لوگ میری دوکان سے خریدی کرتے ہیں او رکبھی کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔پچھلے کچھ دنوں سے ’باہر کے لوگ یہاں پر آکر ماحول کو خراب کررہے ہیں“۔

انہو ں نے کہاکہ ”میرے دو بچے ہیں اور جس کا ابھی اسکول ختم ہوا ہے اور فی الحال میں نے انہیں غازی آباد بھیج دیاہے۔ یہاں تک میں اپنی دوکان میں زیادہ وقت تک نہیں رہنا چاہا رہاہوں۔ اگر لوگ فساد کریں گے تو وہ نہیں دیکھیں گے کہ دوکان کس کی ہے۔

ہم تمام انصاف مانگ رہے ہیں۔ مگر باہر کے لوگ آکر مشکلات کھڑا کررہے ہیں“۔اتوار کے روز مقامی لوگوں نے کہاکہ ایک گروپ نے مبینہ طور پر متاثر کے گھر کے باہر ”جئے شری رام“ کے نعرے لگائے۔

گاؤں کے سابق پردھان للت نے کہاکہ ”ہم تمام نے انہیں چلے جانے کا استفسار کیا۔ہم نے یہ صرف امن کے لئے کیاہے“۔انوج نے کہاکہ گاؤں کونے پرکھڑا ہے‘ جو انصاف کی مانگ کررہے ہے چکارا کا اپنے موبائیل فون فیس بک کا راست ویڈیو دیکھ رہاتھا۔

انوج نے کہاکہ ”گاؤں کے لوگ ٹھیک ہیں وہ حساسیت کو سمجھتے ہیں۔ ہم ہمیشہ بھائی چارہ کے ساتھ رہے ہیں۔ اس طرح کی تمام باتیں اور پیغام مشکلات کھڑا کررہے ہیں“۔

سنجو ورما ایک او رمقامی اپنے ساتھ ادھار کارڈ او رجائیداد کے دستاویزات ساتھ رکھے ہیں تاکہ فوری شناخت ہوسکے۔ انہو ں نے کہاکہ ”میں کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتا۔

میں کسی کام سے باہر گیاہوں اور محسوس کیاکہ سکیورٹی تعیناتی کافی ہے تو مجھے چوکنا رہناچاہئے“۔ایس پی کرائم(علی گڑھ) ڈاکٹر ارویندر کمار نے کہاکہ اتوار سے ”حالات معمول پر ہیں“۔

انہو ں نے کہاکہ ”ہم نے لوگو ں سے بات کرکے سکیورٹی تعیناتی کے اسباب کی وضاحت کی۔ کچھ لوگوں کو اجازت دی ہے کیونکہ ہم مانتے ہیں نظم ونسق کوکوئی خطرہ نہیں ہے۔

صرف مقامی لوگوں کو بھاری تلاشی کے بعداندر آنے او رباہر جانے کی اجازت ہے۔

ایس پی نے کہاکہ سب سے اہم مسلئے سوشیل میڈیابنا ہوا جس کے ذریعہ افواہیں پھیلانے کی کوششیں کی جارہی ہے۔ ہم ان لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کررہے ہیں انہیں گرفتار بھی کریں گے“

TOPPOPULARRECENT