فلسطینی ریاست کو وسیع پیمانے پر تسلیم کیا جائے، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے صدر ترکیہ اردغان کا خطاب
نیویارک ؍ انقرہ ۔ 23 ستمبر (ایجنسیز) صدر ترکیہ رجب طیب اردغان نے عالمی برادری پر زور دیتے ہوئے کہا ہیکہ وہ تباہ شدہ غزہ کی تعمیر نو کیلئے جلد کوششیں شروع کرے۔ انہوں نے یہ بات جنرل اسمبلی کے اجلاس سے منگل کو کہی۔ترک صدر کا مطالبہ تھا کہ اسرائیل پر دباؤ ڈالیں کہ وہ جنگ بندی معاہدہ پر عمل کرے۔ اسرائیل 10 اکتوبر 2025 کو ہونے والے جنگ بندی معاہدہ کے باوجود غزہ میں بمباری جاری رکھتے ہوئے اب تک 4300 سے زائد فلسطینیوں کو قتل کر چکا ہے جبکہ اس نے غزہ میں داخل ہونے والی اشیاء پر بھی مسلسل قدغنیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اور دیگر ادارے جن آلات کو غزہ میں انتہائی ضرورت قرار دیتے ہیں ان کی غزہ میں منتقلی کو اسرائیل نے مشکل بنا رکھا ہے۔غزہ کے بارے میں اقوام متحدہ، عالمی بنک اور یورپی یونین نے ماہ اپریل میں ایک مشترکہ جائزے میں کہا تھا کہ غزہ کی تعمیر نو کیلئے 71.4 ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔ یہ رقم اگلی دہائی کے دوران خرچ کی جائے گی۔جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کیلئے لازم ہیکہ اقوام متحدہ اپنے اندر اصلاحات کرے کیونکہ موجودہ صورتحال میں سلامتی کونسل ذمہ داریاں ادا کرنے سے قاصر ہو چکی ہے۔ترک صدر ایک عرصے سے سلامتی کونسل کو ایک زیادہ جامع فورم کے طور پر ڈھالنے کا مطالبہ کر رہے ہیں جس میں تمام عالمی طبقات کی نمائندگی اور شمولیت ہو۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ دنیا کے 190 ممالک صرف پانچ ملکوں کی مرضی اور من مانی کے تابع ہو کر رہ گئے ہیں۔ یہ منصفانہ نظام ہے نہ ہی دوسرے لوگ اس پر اعتماد کر سکتے ہیں۔انہوں نے غزہ کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا جو کوئی بھی انسانیت رکھتا ہے اور جس کے دل میں انسانوں کیلئے ہمدردی و رحم موجود ہے جو انصاف پر یقین رکھتا ہے اور جس کا ضمیر زندہ ہے وہ غزہ کی صورتحال سے آنکھیں نہیں چرا سکتا۔انہوں نے جنگ بندی کے باوجود غزہ میں ہونے والے ہلاکت خیز واقعات کی مذمت کی۔ ترک صدر نے اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس پچھلے دو برسوں سے مسلسل جنرل اسمبلی میں آنے سے اس لیے قاصر ہیں کہ ان کے یہاں پہنچنے میں رکاوٹیں پیدا کی جاتی ہیں۔
ہمارے فلسطینی بہن بھائیوں کے ساتھ ہونے والی یہ نا انصافی ہمارے ضمیر کیلئے تکلیف دہ ہے۔اردغان نے ان ملکوں پر زور دیا جو ابھی تک فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کرتے کہ وہ بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں اور غزہ میں جاری مظالم رکوانے میں اسرائیل کے خلاف دباؤ بڑھائیں۔ انہوں نے غزہ کو اس دور کا سب سے زیادہ غیر انسانی اور شرم ناک حراستی مرکز قرار دیا۔یاد رہے ترکیہ نیٹو کا رکن ملک ہے اور اس کے ساتھ ہی وہ غزہ میں اسرائیلی جنگ کا سب سے بڑا ناقد ملک رہا ہے۔ وہ غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں نسل کشی کی مذمت کرتا ہے اور بار بار یہ مطالبہ کرتا رہا ہے کہ بین الاقوامی ادارے نسل کشی اور جنگی جرائم کے حوالے سے اسرائیل کے خلاف اقدامات کریں۔ تاہم اسرائیل نسل کشی سے متعلق ان حقائق کی تردید کرتا ہے۔