:روزنامہ سیاست کی خبر کا اثر …:
حیڈرا کی جانب سے 38 بورویلز کی نشاندہی
( محمد مبشرالدین خرم)
حیدرآباد۔28۔اکٹوبر۔شہر میں غیر قانونی ٹینکرس کی سرگرمیوں کے متعلق کئے گئے ’’روزنامہ سیاست‘‘ کے انکشاف کے بعد شروع ہونے والی کاروائیوں کے دوران تاحال ’حیڈرا‘ نے زائد از 38 غیر قانونی بورویلس کی نشاندہی کی جن کے ذریعہ ٹینکرس میں پانی بھرتے ہوئے فروخت کیا جا رہا تھا۔ روزنامہ سیاست نے دونوں شہرو ںحیدرآباد و سکندرآباد کے علاوہ شہر کے اطراف کے علاقوں میں زیر زمین سطح آب کے کم ہونے کے معاملہ میں تشویشناک خبر شائع کرتے ہوئے ’غیر قانونی ٹینکرس‘ کے متعلق انکشاف کیا تھا اور ان غیر قانونی بورویلس کے ذریعہ زیر زمین سطح آب میں تشویشناک حد تک گراوٹ ریکارڈ کے متعلق رپورٹ پیش کی تھی۔ سیاست میں اس خبر کی اشاعت کے بعد ’حیڈرا‘ نے شہر کے نواحی علاقوں میں موجود تالابوں کے قریب تجارتی مقاصد کیلئے استعمال کی جانے والی غیر قانونی بورویلس کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے پائپ لائنس کو منقطع کرنے کے اقدامات کا آغاز کیا اور گذشتہ ایک ہفتہ کے دوران سنم چیروو کے علاوہ فاکس ساگر اور دیگر تالابوں کے قریب موجود بورویلس کو ناکارہ بنانے کے اقدامات کئے گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق فاکس ساگر کے قریب تعمیر کئے گئے 7بورویلس کو ’حیڈرا‘ کے عہدیداروں کی نگرانی میں ناکارہ بنانے کے علاوہ سنم چیروو کے قریب 25غیر قانونی بورویلس جو غیر قانونی تجارتی مقاصد کیلئے استعمال کئے جارہے تھے انہیں ناکارہ بنایا گیا ہے۔اسی طرح تمڈی کنٹہ کے قریب پانی کی فروخت کیلئے نکاسی انجام دینے والی 6بورویلس کو ناکارہ بنانے کے اقدامات کئے گئے ہیں۔عہدیداروں کے مطابق ’روزنامہ سیاست ‘ میں خبر کی اشاعت کے ساتھ ہی شروع کی گئی کاروائی کے دوران اندرون ایک ہفتہ 38 غیر قانونی ٹینکرس کے ذریعہ پانی کی فروخت میں اعانت کرنے والے بورویلس کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں ناکارہ بنانے کے اقدامات کئے گئے ہیں۔روزنامہ سیاست نے 20 اکٹوبر کے شمارہ میں شائع کی گئی خبر میں شہر کے مختلف مقامات سے ہمہ منزلہ عمارتوں کے علاوہ ریستوراں ‘ دواخانوں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کو غیرقانونی پانی کی فروخت انجام دیئے جانے کے معاملات کی نشاندہی کرتے ہوئے اس سے زیر زمین سطح آب میں ریکارڈ کی جانے والی گراوٹ اور تالابو ںکے علاوہ کنٹوں کے قریب جاری ان سرگرمیوں کی تفصیلات پیش کی تھیں۔ ’حیڈرا‘ نے تالابو ںکے قریب جاری پانی کے اس غیر قانونی کاروبار پر قدغن لگانے کا سلسلہ شروع کردیا ہے جبکہ کئی قدیم سرکاری دفاتر کے حدود کے علاوہ گنجان آبادی والے علاقوں میں ’’تجارتی بورویلس ‘‘ کے ذریعہ پانی کی غیر قانونی تجارت کا سلسلہ جاری ہے۔ شہر میں غیر قانونی ٹینکرس کے کاروبار کو ’’پانی مافیا‘‘ نے فی الحال کیلئے روک دیا ہے لیکن اس کے باوجود گنجان آبادیوں میں جہاں ٹینکرس میں پانی بھرا جاتا ہے ان مقامات پر ٹینکرس میں پانی بھرتے ہوئے فروخت کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ’حیڈرا‘ کے عہدیداروں کو بورویلس کو ناکارہ بنانے کے ساتھ ساتھ غیر قانونی پانی کی فروخت میں ملوث ٹینکرس کو ضبط کرتے ہوئے اس کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات درج کرنے کے اقدامات کرنے چاہئے تاکہ شہر حیدرآباد میں ایل۔نینو کے سبب زیر زمین سطح آب کے کم ہونے کے نتیجہ میں بورویلس سوکھنے کی شکایات کو محدود کیا جاسکے۔ حکیم پیٹ کنٹہ کے علاوہ اطراف و اکناف کے علاقوں میں غیر قانونی ٹینکرس کے کاروبار کا تیزی سے فروغ ہورہا ہے کیونکہ ٹولی چوکی کے کئی علاقوں میں پانی کی قلت ہے۔’حیڈرا‘ نے نشاندہی کی ہے کہ کئی مقامات پر ایسے ٹینکرس جن پر HMWSSB کے اسٹیکرس لگاتے ہوئے انہیں غیر قانونی طور پر چلایا جارہا ہے اسی لئے دونوں شہرو ں میں چلائے جانے والے تمام پانی کے ٹینکرس کی جانچ کے اقدامات کئے جانے چاہئے تاکہ غیر قانونی ٹینکروں کے ذریعہ کی جانے والی پانی کے فروخت پر قابو پانے کے اقدامات کئے جاسکیں۔