حکومت، بلدیہ اور محکمہ آثارقدیمہ کی عدم توجہ سے غیرقانونی، غیرسماجی سرگرمیوں کے مرکز میں تبدیل
: محمد نعیم وجاہت :
حیدرآباد ۔ 23 ڈسمبر ۔ مشک محل حیدرآباد میں قطب شاہوں کے دور میں تعمیر کی گئی شاندار عمارتوں میں ایک تاریخی عمارت ہے۔ 350 سالہ تاریخ پر مشتمل یہ محل حیرت انگیز فن تعمیر کا ایک انمول نمونہ ہے۔ اس دور میں قطب شاہی دور کے حکمران مشک محل کو گیسٹ ہاؤز کے طور پر استعمال کیا کرتے تھے۔ 50 سال قبل تک یہاں ایک اسکول بھی قائم تھا جہاں عطاپور کے لوگ زیرتعلیم تھے۔ حکومت کی عدم توجہ سے یہ فن شاہکار محل اب بھوت بنگلہ میں تبدیل ہوگیا ہے اور ساتھ ہی یہ محل غیرقانونی سرگرمیوں کے مرکز میں بھی تبدیل ہوگیا ہے۔ کبھی یہ خوشبوں کا محل بھی کہلاتا تھا۔ یہ تاریخی محل حکومتوں، بلدیہ اور محکمہ آثارقدیمہ کی عدم توجہ کے باعث خستہ حالی کا شکار ہوگیا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک تاریخی ورثہ کی حفاظت کیلئے چند رضاکارانہ تنظیموں کی جانب سے مختلف پروگرامس کا انعقاد کیا تھا۔ فی الحال کوئی اس تاریخی محل کی پرواہ نہیں کررہے ہیں جس کی وجہ سے یہ تاریخی عمارت بھوت بنگلے میں تبدیل ہوگئی ہے۔ مقامی عوام کا کہنا ہیکہ مشک محل میں 50 سال قبل اسکول چلایا جاتا تھا۔ حال ہی میں تاریخی عمارتوں کی عظمت رفتہ بحال کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے گئے تاکہ تاریخی ورثہ کی حفاظت کی جاسکے اور نوجوان نسل کو اس کی اہمیت اور افادیت کا پتہ چل سکے مگر مشک محل کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے۔ حکومت، جی ایچ ایم سی اور محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے تاریخی عمارت پر توجہ نہ دینے کے سبب یہ محل غیرقانونی اور غیرسماجی سرگرمیوں کے مرکز میں تبدیل ہوگیا ہے۔ اس محل میں شراب نوشی عام ہوگئی ہے۔ مقامی عوام کا دعویٰ ہیکہ اس محل میں ابھی تک دو قتل ہوچکے ہیں اور ساتھ ہی ایک خاتون کے ساتھ زیادتی کرتے ہوئے اس کا بھی قتل کردیا گیا ہے۔ چند لوگ محل کے گراونڈ فلور کو باقاعدگی سے بیت الخلاء کے طور پر استعمال کررہے ہیں جس کی وجہ سے وہاں بدبو پھیل رہی ہے۔ سارا محل کچرے کے ڈھیر میں تبدیل ہوگیا ہے۔ محل کی پہلی اور دوسری منزل پر جھاڑیاں اگ چکی ہیں۔ محل کو روشنیوں سے منور کرنے اور اس کی خوبصورتی میں چار چاند لگانے کیلئے لگائے گئے شیشے ٹوٹ گئے۔ مٹی اور پتھر کی دیواریں منہدم ہوکر خستہ حالی کا شکار ہوچکی ہیں۔ یہ بھی افواہیں ہیں کہ اس محل میں ایک سرنگ اور چھپے ہوئے خزانے بھی ہیں۔ فورم فار بیٹر حیدرآباد کے صدرنشین ایم ویدکمار کی قیادت میں 2006ء کے دوران ڈیلوئٹ سافٹ ویر کمپنی کے تعاون سے دو دن تک محل کی صفائی کی گئی۔ نیشنل ٹرسٹ فار آرٹ اینڈ کلچرل ہیرٹیج (INTAC) نے مشک محل کو ہیریٹیج عمارتوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ مورخین کا کہنا ہیکہ 1676ء میں قطب شاہی دور کے آخری بادشاہ ابوالحسن تاناشاہ کے کمانڈر ملک میاں مشک نے اس تاریخی عمارت کو تعمیر کروایا تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہیکہ ابوالحسن تاناشاہ عطر کی بوتلیں محل کے نچلے حصہ میں چھپایا کرتے تھے۔ اس لئے اس کو خوشبوؤں کا محل بھی کہا جاتا ہے۔ مورخین کا ماننا ہیکہ یہ دو منزلہ شاندار محل ماحول دوست اور رازداری کیلئے تعمیر کروایا گیا ہے۔ ہوا اور روشنی کیلئے شیشوں کی کھڑکیاں بنائی گئی جبکہ اس محل کے دو مرکزی دروازے تھے۔ محل میں ایک باغ بھی تھا۔ قطب شاہی بادشاہوں کے ارکان خاندان محل کو ایک منفرد گیسٹ ہاؤز کے طور پر استعمال کیا کرتے تھے۔