18 ہزارکیلو میٹر تک مار کرنے کی صلاحیت ، نارتھ کوریا ، چین ، امریکہ اور ہندوستان بھی طویل فاصلاتی میزائیلس کے حامل
حیدرآباد ۔3 ۔ اگست (سیاست نیوز) کسی بھی ملک کی فوجی طاقت کا اندازہ اس کی میزائیل ٹکنالوجی اور میزائیلس کی صلاحیت سے کیا جاسکتا ہے۔ فوجی طاقت میں اضافہ کے لئے دنیا کے اہم ممالک طویل فاصلاتی میزائیلس کی تیاری کو ترجیح دے رہے ہیں تاکہ دشمن کے ٹھکانوں کو بآسانی نشانہ بنایا جاسکے۔ طویل فاصلہ تک مار کرنے کی صلاحیت کے معاملہ میں روس دنیا میں سرفہرست ہے جس نے 18000 کیلو میٹر تک نشانہ بنانے کی صلاحیت والی میزائیل تیار کی ہے۔RS-28 Sarmat نامی میزائیل 18000 کیلو میٹر کا فاصلہ طئے کرتے ہوئے دشمن کے ٹھکانوں کو نشانہ بناسکتی ہے۔ فوجی طاقت کے اعتبار سے اگرچہ امریکہ خود کو دنیا کا طاقتور ملک ظاہر کرتا ہے لیکن طویل فاصلاتی میزائیلس کے معاملہ میں وہ روس ، نارتھ کوریا اور چین سے پیچھے ہے۔ نارتھ کوریا نے 15000 کیلو میٹر تک مار کرنے کی صلاحیت والی میزائیل تیار کی ہے جسے Hwasong-18 کا نام دیا گیا ہے۔ نارتھ کوریا فوجی طاقت کے معاملہ میں نیوکلیئر ہتھیاروں سے بھی لیس ہے۔ چین کے پاس بھی 1500 کیلو میٹر تک نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والی میزائیل موجود ہے جسے Dongfeng-41 کا نام دیا گیا ہے۔ طویل فاصلاتی میزائیلس کے معاملہ میں امریکہ چوتھے نمبر پر ہے جس کے پاس 13000 کیلو میٹر تک مار کرنے کی صلاحیت والی میزائیل LGM-35 Sentinel موجود ہے۔ طویل فاصلاتی میزائیلس کے معاملہ میں روس ، امریکہ اور برطانیہ کی یکساں طور پر صلاحیت 12000 کیلو میٹر کے معاملہ میں پائی گئی ہے۔ ان تینوں ممالک کے پاس 12000 کیلو میٹر سے زائد تک مار کرنے کی صلاحیت والی میزائیلس موجود ہیں۔ فرانس نے 10000 کیلو میٹر تک نشانہ بنانے کی صلاحیت والی M-51 میزائیل تیار کی ہے۔ ہندوستان کے پاس 8000 کیلو میٹر تک دشمن کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت والی Agni-V میزائیل موجود ہے۔ اسرائیل کے پاس 6500 کیلو میٹر تک دشمن کو نشانہ بنانے کی صلاحیت والی میزائیل Jericho-III موجود ہے۔ فوجی طاقت کے معاملہ میں امریکہ۔ روس اور چین نے دشمن ممالک کے خلاف میزائیلس کا استعمال کرتے ہوئے اپنی طاقت کا مظاہرہ بھی کیا ہے۔ ان ممالک کا وقفہ وقفہ سے کسی نہ کسی ملک کے ساتھ فوجی تنازعہ جاری رہتا ہے ۔ روس نے یوکرین کے خلاف جبکہ امریکہ نے ایران کے خلاف ہتھیاروں کا بڑے پیمانہ پر استعمال کیا ہے۔1/k/m/b