خواجہ رحیم الدین(امریکہ)
قدیم دنیا کے لوگ دو بڑی نسلوں میں بٹے ہوئے تھے ، ایک سامی النسل باشندے تھے اور دوسرے آریائی نسل کے لوگ جن کا سب سے پہلا مرکز وسط ایشیاء تھا ، وہ خانہ بدوش کی زندگی بسر کرتے تھے۔ چنانچہ آریائی نسل کے کچھ قبائل بحیرۂ کیپسن کے ارد گرد بس گئے ۔ دو بڑے گروہوں میں بٹ گئے، آریوں کے ایک گروہ نے جنوب اور جنوب مشرق کی طرف ہجرت کی اور ان ملکوں میں آباد ہوا جو بعد میں ایران اور ہندوستان کہلائے ۔ دوسرے گروہ مغرب کی طرف کوچ کرگیا جو یونان جرمن اور اٹلی وغیرہ میں آباد ہوا اور الذکر گروہ کے بعض قبائل ان پہاڑوں اور وادیوں میں آباد ہوئے ان کے ملک کا نام ان کے نام کی مناسبت سے ایران رکھا گیا ۔ قدیم ایران کے بادشاہ پارس ابن ہوشنگ کے زمانے میں ایرانی سلطنت بلوچستان ، کرمان افغانستان ، اصفہان ، آزر بائجان ، عراق ، ترکی کے علاقوں پر پھیلی ہوئی تھی۔ ایران کی تاریخ کے دور کا ایک اہم نام جمشید ہے۔
عراق اور اس کے نواحی علاقوں پر اہل فارس کی حکمرانی چلی آرہی تھی ۔ ارد شیر نے ایران میں ساسانی حکومت کی داغ بیل ڈالی۔ قدیم ایران کی مذہبی کتابوں میں اللہ کے ان برگزیدہ بندوں کو خشور یا شت و خشور کہا گیا ہے ۔ اسکے معنی رسول کے ہیں، انہی قوم میں توحید الٰہی کا پرچار کیا تھا لیکن تیرہ پشتوں کے بعد لوگ پھر گمراہ ہوگئے ۔ ایران کے آخری بادشاہ یزد گرد نے ایک مرتبہ سورج کی قسم کھاتے ہوئے یہ جملہ کہا تھا کہ ’’میں سورج کی قسم کھاتا ہوں۔
کیو مرث کے بیٹے ہوشنگ نے اپنے ملک کا نام ایران رکھا تھا ، تاہم عرب مورخین نے اس کے بعد تک سلطنت ایران کو مملکت فارس کے نام سے یاد کیا۔ بنو مستکبر نے عمان میں ایک وسیع حکومت قائم کرلی تھی ۔ ساسانی ایرانیوں کے ماتحت تھی ، یہاں کا حکمراں جلندیٰ بن مستکبر عربی ادبیات میں خاصا مشہور ہے ۔عمان کی بندرگاہ دیا بھی تجارت کا بڑا مرکز تھی، ان دنوں اسے دباالحسن کہا جاتا ہے اور یہ آبنائے ’’ہرمز‘‘ پر واقع ہے ، عمان کے علاقہ کے جنوب میں متحدہ عرب امارات کی سرحد کے نزدیک آباد ہے۔ ان دنوں سلطنت عمان کا دارالحکومت مسقط ہے جو قدیم دارالحکومت صحار کے جنوب مشرق میں تقریباً سوا دو سو کیلو میٹر دور خلیج عمان کے ساحل پر واقع ہے ۔
جزیرہ اُس جگہ کو کہتے ہیں جہاں سے پانی اُتر گیا ہو یا خشک ہوگیا ہو۔ اصلاحی طور پر جزیرہ (ISLAND) سے مراد خشکی کا وہ ٹکڑا جس کے چاروں طرف پانی ہو جیسے جزیرہ قبرص زمین کا ایسا قطعہ جس کے تین جانب سمندر ہو اور چوتھی طرف خشکی بڑے قطعے سے ملا ہوا ہو۔ 226 ء میں ارد شیر نے ایران میں ساسانی حکومت کی داغ بیل ڈالی اور اپنے ملک کی سرحد پر آباد عربوں کو زیر کیا تو قبیلہ قضاعہ نے ملک شام کی راہ لی۔ جزیرہ نمائے عرب میں یہود بھی آباد تھے ، شاہ آشو سارگون دوم نے شمالی فلسطین کی یہودی ریاست سے ’’اسرائیل‘’ کی اینٹ سے اینٹ بجادی تو یہود کو ترکِ وطن کرنا پڑا ۔ ایران کی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ وہاں اللہ تعالیٰ ہمیشہ توحید کا پرچار کرنے والوں کو مبعوث فرماتا رہا۔ ایرانیوں کے ہاں بہت پہلے اپنی قوم میں توحید الٰہی کا پرچار کیا تھا لیکن تیرہ پشتوں کے بعد لوگ پھر گمراہ ہوگئے۔
ایران کے مصنف فردوس لکھتے ہیں ، سب سے پہلے آگ کا ظہور ہو شنگ کے زمانے میں ہوا جو دو پتھروں کے رگڑ کھانے سے پیدا ہوتی تھی جنگوں میں گرمی سے بھی ، ہوشنگ نے آگ کی دریافت پر اللہ کا شکر ادا کیا ۔ اسے ایرانی قوم کا خاص تہوار دے دیا گیا ۔ اہرمن (AHRIMAN) قدیم ایران میں بدی کا دیوتا مانا جاتا تھا ، قدیم ایرانی اُس سے ڈرتے تھے۔ 539 ق م میں ایران کے حکمراں ذوالقرنین نے بابل سمیت پور ے عراق کو فتح کیا ۔ 526 ق م ہخامنشی بادشاہ کمبوجیہ نے مصر پر یلغار کی اور اسے سلطنت ایران میں شامل کرلیا ۔ 498 ق م میں یونانی ریاستوں نے ایران کے خلاف بغاوت کردی تو شاہ ایران دارا گشتا سب نے یونان کو فتح کرنے کے لئے ایک بڑی فوج بھیجی۔ میدان جنگ میں یونانی جرنیل نے ایرانیوں کو شکست فاش دی۔ ایرانیوں کی شکست کا سلسلہ سکندر اعظم کے حملے تک جاری رہا ، سکندر اعظم بابل پہنچ کر فوت ہوگیا۔ اس نے مختلف مقامات پر اپنے نام سے 25 شہر آباد کئے جس میں مصر ، ترکی آج بھی معروف ہیں۔ پہلی تا چھٹی صدی ق م یونان علم و ادب کا سنہری دور تھا ۔ اس دور میں ریاضی داں فیشا فورث ، جمہوریت پسند سیاستداں پیریکلینر، باباِ طب بقراط فیشنا فورث پہلا شخص تھا جس نے کرہ ارض کو گول کہا، سقراط بت پرستی کے مخالف تھے۔ اس جرم میں زہر کا جام ہلاکر مار ڈالا گیا۔ افلاطون کی تصنیف اعلی درجے کے مکالمات کا مجموعہ ہے ، سقراط کا ایک ایک لفظ محفوظ ہے۔ ایرانی فوجیں اردن ، فسلطین کے علاقے پر قابض ہونے کے بد مصر پہنچ گئے۔ 2000 تا 1500 ق م کے دوران میں آریائی قبائل وسط ایشیا اور ایران سے وادی سندہ میں داخل ہونا شروع ہوئے، ان کی زبان میں دریا کو سندہ کہتے تھے۔
سندھو یا سندھ جسے یونانی مورخوں نے ’’انڈس‘’ کہا اور اسی لفظ سے ’’انڈ ‘‘ ہند اور انڈیا ماخوذ ہیں۔ ایرانیوں اور پھر عربوں نے دریائے سندہ کو ’’مہران‘‘ کے نام سے موسوم کیا۔ برما والوں نے ہندوستان کو اندریا کہا ، ایرانیوں نے سندہ کو ’’ہند‘‘ کہا ، یونانیوں نے ہند بدل دیا جو انگریزی میں ’’انڈیا‘’ بن گیا۔ یہاں صرف قدیم ایران ق م کے مذاہب و عقائد کو مختصر معلومات مہیا کرنے کی کوشش کی گئی ، آج اور اب کے ایران کو تو ہر شخص دیکھ رہا ہے ، سن رہا ہے اور پڑھ رہا ہے اور کچھ عرصہ تک پڑھتے رہیں گے۔