پی آر سی اور فٹمنٹ کے نام ملازمین کے ساتھ فریبی تسلی ، پروفیسر ناگیشور راؤ کا ردعمل
گریجویٹ ایم ایل سی میں کامیابی کے ذریعہ ہاتھ مضبوط کرنے کی اپیل
حیدرآباد۔ ریاست میں موجود جملہ 4.91لاکھ جائیدادیں جو منظورہ ہیں ان میں 1.91 لاکھ جائیدادیں مخلوعہ ہیں جو کہ منظورہ جائیدادوں کا 39 فیصد ہے ۔ حکومت کی جانب سے ان جائیدادوں پر تقررات کو یقینی بنانے کے اقدامات نہ کیا جانا اور ان جائیدادوں کو مخلوعہ رکھا جانا نہ صرف بے روزگاری میں اضافہ کا سبب بن رہا ہے بلکہ جن محکمہ جات میں جائیدادیں مخلوعہ ہیں ان محکمہ جات کی حالت ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ چیف منسٹر کی جانب سے پی آر سی اور فٹمنٹ کے متعلق انتخابات کے پیش نظر خبریں پھیلائی جا رہی ہیں اور ملازمین کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حیدرآباد۔رنگاریڈی۔ محبوب نگر گریجویٹ نشست برائے تلنگانہ قانون ساز کونسل کے امیدوارو سابق رکن قانون ساز کونسل پروفیسر کے ناگیشور نے ریاستی حکومت کی جانب سے 29 فیصد پی آر سی کے اشارے دیئے جانے کو گمراہ کن پروپگنڈہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے ملازمین کو دھوکہ دیا جا رہا ہے اور تلنگانہ راشٹر سمیتی کی جانب سے ریاست کے ملازمین سے دھوکہ دہی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ پروفیسر ناگیشور نے بتایا کہ تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے جس پی آر سی کی بات کی جا رہی ہے وہ پے ریویژن کمیشن نہیں ہے بلکہ وہ پے ریڈکشن کمیشن کے طور پر کام کر رہا ہے۔ انہو ں نے بتایا کہ چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ جس انداز میں تلنگانہ قانون ساز کونسل کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے ملازمین اور طلبہ کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں وہ اب کامیاب نہیں ہوپائیں گے کیونکہ تلنگانہ عوام اب جان چکے ہیں کہ تلنگانہ راشٹر سمیتی عوامی مفادات کے تحفظ کے بجائے اپنے اقتدار کے تحفظ کی کوشش کر رہی ہے۔انہو ںنے بتایا کہ حکومت ملازمین کے مسائل کے حل اور پی آر سی کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں ہے اسی لئے مسئلہ اب تک تعطل کا شکار بنا ہوا ہے۔ پروفیسر ناگیشور نے بتایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ ملازمین کے مسائل پر بالخصوص پی آر سی کے مسئلہ پر بات کرے کیونکہ تلنگانہ میں جس طرح کنٹراکٹ ملازمین کو سبز باغ دکھاتے ہوئے گمراہ کیا گیا تھا کہ ریاست میں تلنگانہ راشٹر سمیتی کو اقتدار حاصل ہوتے ہی ریاست میں تمام کنٹراکٹ ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنایا جائے گا ویسے ہی مرکز میں اقتدار حاصل کرنے سے قبل بی جے پی نے ملازمین کے ووٹ حاصل کرنے کے لئے کنٹراکٹ ملازمت کے سلسلہ کو ختم کرتے ہوئے ان کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن ریاستی اور مرکزی حکومت دونوں کی جانب سے اسی پالیسی پر عمل کیا جا رہاہے۔پروفیسر ناگیشور نے بھارتیہ جنتا پارٹی پر الزام عائد کیا کہ ان کی جانب سے دریافت کئے جانے والے سوالات سے بی جے پی فرار اختیار کررہی ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ جب مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے انتخابات کے دوران نلہ کنٹہ میں پانی کے مسائل ‘ عنبرپیٹ میں ڈرینیج کے مسائل کا تذکرہ کرسکتے ہیں تو ایم ایل سی انتخابات کے دوران انہیں بھی حق ہے کہ وہ مرکزی حکومت کی کارکردگی کے متعلق سوال اٹھائیںاور ان کی جانب سے ہر اس مسئلہ کو اٹھایا جائے گا جو حل طلب ہو۔ پروفیسر ناگیشور نے کہا کہ ان پر اعتراض کرنے والوں کی جانب سے کہا جا رہاہے کہ وہ یا ان کی پارٹی اقتدار میں نہیں ہے تو مسائل کیسے حل کروائیں گے لیکن ایسا کہنے والوں کو یہ دیکھنا چاہئے کہ مرکز میں تلنگانہ راشٹر سمیتی اقتدار میں نہیں ہے اور ریاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار میں نہیں ہے لیکن اس کے باوجود وہ انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں ۔انہو ںنے رکن قانو ن ساز کونسل و بی جے پی امیدوار مسٹر این رامچندر سے استفسار کیا کہ وہ خود کو سوال اٹھانے والے ایم ایل سی کے طور پر پیش کرتے ہیں لیکن کیوں وہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتو ںمیں ہونے والے اضافہ پر خاموش ہیں! کیوں آئی ٹی آئی آئی آر کو اسکراپ کئے جانے پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں! کیو ں وہ بینکوں کے خانگیانے کے فیصلہ پر خاموش ہیں! پالمورو‘ رنگا ریڈی آبپاشی پراجکٹس کو قومی پراجکٹ کا موقف دلوانے میں تاخیر کے مسئلہ پر وہ کیوں آواز نہیں اٹھا رہے ہیں!ویزاگ اسٹیل پلانٹ مسئلہ پر کیوں خاموش ہیں!جبکہ خود ان کی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ سبرامنیم سوامی آواز اٹھا رہے ہیں۔پروفیسر ناگیشور نے بتایا کہ وہ اپنی انتخابی مہم کے لئے کوئی ادائیگی نہیں کر رہے ہیں بلکہ نظریاتی اعتبار سے ان کے ایجنڈہ کی تائید کرنے والوں کی جانب سے ان کی مدد کی جا رہی ہے اور ان کی انتخابی مہم چلائی جا رہی ہے۔انہو ںنے بتایا کہ ایک ہزار لوگوں نے ان کی انتخابی مہم اور ان کے ساتھ کام کرنے کیلئے رخصت حاصل کی ہے اور ان کے لئے مکمل رضاکارانہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہو ںنے اپنی انتخابی مہم کے سلسلہ میں بتایا کہ وہ 75سے زائد اجلاس میں شرکت کر چکے ہیں اور 99 فیصد رائے دہندوں سے ان کی ملاقات شخصی طور پر ہوچکی ہے۔ اس کے علاوہ ان کے لئے کام کرنے والے 4000 افراد گھر گھر رائے دہندوں سے ملاقات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔