نیویارک : لبنان کو سالانہ واجبات ادا کرنے میں ناکامی پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ووٹنگ کے حقوق سے محروم کر دیا گیا ہے۔عرب نیوز کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے کہا ہے کہ بیروت کو اپنی یہ حیثیت دوبارہ بحال کرنے کے لیے تقریباً 1.8 ملین ڈالر کے بقایا جات ادا کرنا ہوں گے۔واضح رہے کہ اس سے قبل ووٹ کا حق چھن جانے والے دیگر ممالک میں ڈومینیکا، استوائی گنی، گیبون، جنوبی سوڈان اور وینزویلا شامل ہیں۔اقوام متحدہ کے قوانین کے مطابق کوئی بھی ملک اپنے دو سال کے عطیات کے واجبات جمع نہیں کراتا یا بقایا جات کی ادائیگی نہ کرنے کی کوئی وجہ یا ثبوت نہیں دیتا تو ووٹ کا حق کھو سکتا ہے۔لبنان 2019 سے معاشی بدحالی کا شکار ہے، جب کئی دہائیوں کے غیر ضروری اخراجات، بدانتظامی اور بدعنوانی کے بعد اس کا مالیاتی نظام درھم برھم ہو گیا ہے۔لبنان کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کو اس قرض کی ادائیگی فوری طور پر اب اس طریقے سے کی جائے گی جس سے اقوام متحدہ میں لبنان کے حقوق کا تحفظ ہو۔دریں اثناء لبنان کے دو آزاد ارکان پارلیمنٹ نے گزشتہ رات پارلیمنٹ میں گزاری اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک یہیں رہیں گے جب تک اسمبلی نئے صدر کا انتخاب نہیں کرتی۔