لکھیم پور تشدد کیخلاف مہاراشٹرا بند کامیاب

,

   

اجئے مشرا کے استعفیٰ کا مطالبہ ، سنگباری سے 9 بسوں کو نقصان ، مسلم علاقے بھی بند میں شامل

ممبئی : اُترپردیش کے لکھیم پور کھیری ضلع میں کسانوں کے ساتھ تشدد کے بعد ان کی حمایت میں آج مہاراشٹر میں حکمران مہا وکاس اگھاڑی حکومت کی طرف سے بند کی اپیل کے دوران مظاہرین نے برہن ممبئی الیکٹرک سپلائی اینڈ ٹرانسپورٹ (بیسٹ) کی 9 بسوں کو نقصان پہنچایا۔بی ای ایس ٹی کے ترجمان منوج وردے نے بتایا کہ کچھ لوگوں نے من خورد ، شیواجی نگر ، اوشیوارہ اور گھاٹ کوپر علاقوں میں چلتی بسوں پر پتھراؤ کیا جس سے 9 بسوں کو نقصان پہنچا۔تاہم ، این سی پی ریاستی صدر جینت پاٹل نے بتایا کہ اس کا مہاوکاس اگھاڑی یا ایم وی اے کی حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ اس میں حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے ۔ ریاست میں صرف پارٹی کارکنوں احتجاج کر رہے ہیں ۔ جبکہ کانگریس ریاستی صدر نانا پٹولے نے بتایا کہ لکھیم پور میں مارے گئے بہادر کسانوں کو خراج عقیدت پیش کرنے لوگوں نے بڑی تعداد میں احتجاج میں حصہ لیا۔ انہوں نے کہ ہم مرکزی وزیر اجے مشرا کے استعفی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ دریں اثنا ، ممبئی میں این سی پی کی رکن پارلیمنٹ سپریا سولے نے بھی سڑک پر آکر بند میں حصہ لیا اور جنوبی ممبئی میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کیا اور آٹورکشا ڈرائیوروں کی 13 یونینوں کے علاوہ حمال مزدور سنگٹھن نے بھی اس میں شامل ہونے کی بات کی۔ واضح رہے کہ بند کے دوران وسطی اور مغربی ریلوے کی خدمات معمول کے مطابق رہی ۔ اگرچہ بند کے پیش نظر چوکسی بڑھا دی گئی تھی تاہم کوئی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی ۔ممبئی سمیت مہاراشٹر میں چند مقامات پر معمولی تشدد اور سنگباری کے ساتھ لکھیم پورکھیری میں تشدد میں کسانوں کی ہلاکت کے خلاف مہاوکاس اگھاڑی اور دیگر پارٹیوں اور تنظیموں کا بند مکمل کامیاب رہاہے ۔ممبئی اور دیگر شہروں میں مسلم اکثریتی علاقے بھی بند رہے ہیں ۔شیوسینا،کانگریس اور این سی پی ورکروں نے جگہ جگہ موٹر گاڑیوں کو روکنے کی کوشش کی۔ شیوسینا،این سی پی ،سی پی آئی،سی پی ایم ،ٹریڈیونین اور متعدد کسان اور طلباء گروپ شامل ہوئے ہیں۔ اپوزیشن بی جے پی نے اپنے حلقوں میں دکانیں کھلوانے کی کوشش کی۔ ممبئی میں کارپوریشن کے تحت بیسٹ بسیں بند رہیں اور ایس ٹی خدمات پر بھی اثر پڑا ہے البتہ لوکل ٹرین سرویس حسب معمول رہیں لیکن مسافر نہ کے برابرتھے۔لازمی خدمات کو بند سے مستثنیٰ رکھا گیا ۔پولیس کی بھاری جمعیت کو تعینات کیا گیا ۔ وزیر داخلہ دلیپ ولسے پاٹل نے وارننگ دی تھی کہ کسی بھی تشدد کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ممبئی میں کئی مقامات پر بسوں پر پتھراؤ کیا گیا اور درجن بھر بسیں متاثر ہوئی ہیں۔ مہا وکاس اگھاڑی کے لیڈران سنجے راوت،کشورتیواری،جینت پاٹل،نواب ملک، ناناپٹولے ، بالاصاحب تھوراٹ،بھائی جگتاپ اور دیگر لیڈران نے احتجاجی دھرنا دیا اور مرکز اور یوپی حکومتوں کے خلاف نعرے لگائے ۔ممبئی میں مسلم اکثریتی علاقے بھنڈی بازار،نل بازار،کرافورڈ مارکیٹ،محمدعلی روڈ، ناگپاڑہ، جوگیشوری،ماہم ،کرلااور دورافتادہ ممبرا،میرا روڈ اور دیگر علاقے مکمل بند رہے ۔یہاں سے کسی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی ہے ۔گزشتہ ہفتے وزیراعلی ادھو ٹھاکرے کی صدارت میں کابینہ نے لکھیم پورکھیری میں کسانوں کی ہلاکت پر دومنٹ خاموش رہ کر انہیں خراج پیش کیا اور برسر اقتدار محاذ نے تشدد کے خلاف بند کا بھی اعلان کیا تھا۔