دو خواتین بھی شامل ‘ایک شخص اسکول میں ہے ، آشا ورکرس روزانہ ادویات دے رہی ہیں
حیدرآباد : کورونا ہر گھر کیلئے آفت بنا ہواہے۔ حکومت سے متاثرین کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے سے غریب عوام گھر میں دوسرے ارکان کو محفوظ رکھنے شمشان گھاٹ میں پناہ لینے پر مجبور ہیں ۔ عام طور پر لوگ شمشان گھاٹ کے قریب سے گزرنے میں ڈر محسوس کرتے ہیں۔ کورونا کا قہر گھر چھوٹے ہونے کی وجہ سے انہیں اب شمشان میں دن رات گزارنا پڑ رہا ہے ۔ وائرس سے متاثرین کیلئے آئسولیشن کی سہولت نہیں ہے ۔ ہاسپٹلس میں شریک ہونے بیڈس کی قلت ہے ۔ ہوم کورنٹائن میں رہنے گھر میں جگہ نہیں ہے ۔ گھر کے دوسرے افراد متاثر ہونے کے خدشات ہیں۔ ضلع محبوب نگر کے منڈل نواب پیٹ میں واقع کشٹم پلی گاؤں میں کورونا سے متاثر 5 افراد جس میں دو خواتین بھی شامل ہے ، مقامی شمشان گھاٹ کو کورنٹائن سنٹر میں تبدیل کرتے ہوئے گزشتہ 7 دن سے رہ رہے ہیں ۔ گاؤں کا ایک اور کورونا متاثر اسکول میں قیام کیا ہوا ہے ۔ شمشان گھاٹ میں موجود ایک شیڈ کے نیچے رہنے پر مجبور ہیں۔ وہ لوگ وہیں پکا رہے ہیں، وہیں کھا رہے ہیں ، وہیں کپڑے بھی دھو رہے ہیں۔ رات میں سوتے وقت ڈر و خوف محسوس کر رہے ہیں۔ مگر ان کے پاس دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے ۔ جب ان متاثرین سے شمشان گھاٹ میں رہنے کی وجہ دریافت کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ ہمارے گھر بہت چھوٹے ہیں ، رہنے کیلئے علحدہ کمرے بھی نہیں ہے ۔ گھر کے دوسرے افراد کے ساتھ مل کر نہیں رہ سکتے اس لئے شمشان گھاٹ میں رہ رہے ہیں۔ آشا ورکرس ہر دن شمشان گھاٹ پہنچ کر ادویات دے کر جارہے ہیں ۔ جیسے ہی یہ خبر منظر عام پر آئی کانگریس کے سینئر قائد وی ہنمنت راؤ نے سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ دل دہلادینے والا واقعہ ہے ۔ حکومت فوری توجہ دے اور ہر منڈل سطح پر آئسولیشن سنٹر قائم کریں اور غریب متاثرین کو ان سنٹرس میں قیام و طعام کی تمام سہولتیں فراہم کرے ۔ تلنگانہ حکومت کورونا کو قابو میں کرنے اور متاثرین کو ہاسپٹلس میں بہتر علاج اور غریب عوام کیلئے آئسولیشن سنٹر فراہم کرنے میں پوری طرح ناکام ہوگئی ۔