محکمہ اقلیتی بہبود ‘ کمیشن اور اعلی حکام کی مرضی کیلئے قوانین بھی داؤ پر !

   

اقلیتی مالیاتی کارپوریشن میں آوٹ سورسنگ عملہ فراہم کرنے والی ایجنسی کی اندھی تائید۔ شکایات یکسر نظرانداز

حیدرآباد20ستمبر(سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود تلنگانہ ’کمیشن‘ کے مرکز میں تبدیل ہوچکا ہے اور وہی کام انجام دیئے جا رہے ہیں جن میں ’کمیشن‘ ملتا ہو۔محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیدار’ٹمریز‘ کے صدر دفتر میں ’آؤٹ سورسنگ ‘ عملہ فراہم کرنے والی ایجنسی کی حمایت میں اس قدر شدت سے آگے آرہے ہیں کہ انہیں ’آؤٹ سورسنگ‘ عملہ کی خدمات فراہم کرنے والے قوانین کا بھی پاس و لحاظ نہیں ہے۔ تلنگانہ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن میں آؤٹ سورسنگ عملہ کی خدمات کے سلسلہ میں ماہ مئی میں جاری ٹنڈر میں بدعنوانیوں کی متعدد شکایات کی وصولی کے باوجود اس ایجنسی کو یہ ذمہ داری تفویض کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے جو ایجنسی ’ٹمریز‘ کے صدر دفتر میں ’آؤٹ سورسنگ‘ عملہ کی خدمات فراہم کر رہی ہے اور مذکورہ ایجنسی پر متعدد الزامات بھی ہیں جن میں ان اداروںمیں خدمات کی فراہمی کیلئے نوجوانوں سے ’رقومات‘ کی وصولی کی شکایات شامل ہیں ۔ بتایاجاتاہے کہ ایجنسی کارپوریشن کے ہی سابق ملازم کے فرزند کی ہے اور وہ درکار دستاویزات نہ رکھنے کے باوجود ’ٹمریز‘ میں عملہ کی فراہمی کا ٹنڈر حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے اور کئی برسوں سے ’عملہ ‘ کی فراہمی عمل میں لا رہے ہیں اور گذشتہ 2 برسوں سے تلنگانہ اقلیتی مالیتی کارپوریشن میں ’آؤٹ سورسنگ‘ عملہ کی فراہمی کا ٹنڈر حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں لیکن جاریہ سال بھی اس میں ناکامی کے باوجود ٹنڈرکمیٹی پر محکمہ کے اعلیٰ عہدیداروں کے دباؤ کے نتیجہ میں ٹنڈر کی ’ٹکنیکل بولی‘ میں ناکامی کے باوجود مذکورہ کمپنی میں کو رقمی بولی میں شامل کیا گیا حالانکہ تحقیقات کیلئے تحریری شکایت کرنے والوں نے محکمہ اقلیتی بہبود کے حکام کو یادداشت میں یہ بھی صراحت کی ہے کہ کن بنیادوں پر مذکورہ ایجنسی نااہل قرار دی جانی چاہئے تھی!شکایت کنندہ نے بتایا کہ مذکورہ کمپنی نے ’لیبر کنٹراکٹ لائسنس ‘ کی جگہ اسٹابلشمنٹ لائسنس کی نقل جمع کروائی جو کہ ناقابل قبول ہے اس کے باوجود ’ٹنڈرکمیٹی ‘ میں شامل تھے وہ محکمہ اقلیتی بہبود کے اعلیٰ حکام کے دباؤ کے تحت جس کمپنی کو نااہل قرار دیا جانا چاہئے تھا اس کمپنی کو ’آؤٹ سورسنگ عملہ‘ کی فراہمی کی ذمہ داری تفویض کرنے کی تیاری میں مصروف ہیں۔محکمہ اقلیتی بہبود بالخصوص پرنسپل سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود جناب احمد ندیم کو محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت اداروں میں خامیوں کے علاوہ بڑے پیمانے پر خرد برد کے معاملات کی آزادانہ تحقیقات کروانی چاہئے کیونکہ محکمہ اقلیتی بہبود کے بیشتر اداروں کے متعلق کئی شکایات ملنے کے باوجود کوئی کارروائی نہ کئے جانے سے نہ صرف محکمہ اقلیتی بہبود بلکہ حکومت کو بدنامی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔3