محکمہ جات سے جوابی حلفنامہ میں تاخیر پر ہائی کورٹ کی برہمی

   

مقدمات کی یکسوئی میں رکاوٹ، ایک سال سے حلفنامہ کا عدم ادخال
حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ نے حکومت کے محکمہ جات کی جانب سے جوابی حلفنامہ داخل کرنے میں تاخیر کرنے پر برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے کہا کہ بارہا توجہ دہانی کے باوجود بیشتر سرکاری محکمہ جات حلفنامہ داخل کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں جس کے نتیجہ میں مقدمات کی عاجلانہ یکسوئی ممکن نہیں ہوپارہی ہے۔ ہائی کورٹ نے محکمہ جات کو انتباہ دیا کہ اگر مرکز اور ریاست کی جانب سے حلفنامے داخل نہیں کئے گئے تو عدالت ایسے معاملات کی یکطرفہ یکسوئی کردے گی ۔ چیف جسٹس ہیما کوہلی اور جسٹس وجئے سین ریڈی پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے آل انڈیا جمیعت القریش ایکشن کمیٹی کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے یہ تاثر دیا ہے۔ کمیٹی نے موٹر وہیکل ایکٹ 1989 کے بعض قواعد کو چیلنج کیا ہے۔ جانوروں کی منتقلی کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے متعلق نئے شرائط کا مقصد جانوروں کو موت سے بچانا ہے۔ درخواست گزار نے کہا کہ اسوسی ایشن کے ارکان میں چھوٹے کسان شامل ہیں جو نئے قواعد پر عمل آوری سے قاصر ہیں۔ درخواست گزار نے کہا کہ محکمہ انیمل ہیسبنڈری کو جانوروں کی منتقلی کے بارے میں قواعد مرتب کرنی چاہئے لیکن یہاں پر ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ نے قواعد میں ترمیم کی۔ گزشتہ سال مارچ میں عدالت نے مرکز اور ریاستی حکومت کو جوابی حلفنامہ داخل کرنے کی ہدایت دی تھی۔ دونوں حکومتوں نے عدالت سے مزید وقت مانگا ہے جس پر ججس نے برہمی کا اظہار کیا۔ ججس نے کہا کہ 10 ماہ گزرنے کے باوجود حلفنامہ کا عدم ادخال افسوسناک ہے۔