مدھیہ پردیش میں دلتوں کو مندر میں داخلہ سے روکا گیا ‘ سنگباری ‘ 24 زخمی

   

بھوپال ۔ مدھیہ پردیش کے کھارگون ضلع میں دلت برادری کے افرادک و مندر میں جانے سے روکنے پر ایک جھڑپ ہوگئی اور سنگباری کے واقعات پیش آئے جن میں تقریبا دو درجن افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ مہاشیوراتری کے موقع پر دلتوں کو مندر میں پوجا کیلئے جانے سے روکنے پر یہ واقعہ پیش آیا ۔ اطلاعات کے مطابق کثیر تعداد میں لوگ چھاپرا ٹاؤن میں واقع مندر میں پوجا کیلئے جمع ہوئے تھے ۔ اس وقت او بی سی برادریوں کے کچھ افراد کے درمیان سخت بحث و تکرار شروع ہوگئی ۔ ان برادریوں کے افراد نے یہ مندر بنائی ہے ۔ انہوں نے بلائی برادری کے افراد کو جو دلت قرار دئے جاتے ہیں مندر میں جانے سے روک دیا اور ان کی خواتین کو وہاں سے بھگادیا جو مندر میں پو جا کیلئے آئی تھیں۔ یہ تکرار اور بحث بعد میں ایک بڑے جھگڑے میں تبدیل ہوگئی اور دونوں جانب سے سنگباری کی گئی ۔ سرکاری رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ بلائی برادری کی خواتین کو مندر میں پوجا سے روکنے پر یہ تنازعہ پیدا ہوا تھا ۔ مراٹھا ‘ پٹیل اور گرجر برادری کے افراد نے دلت خواتین کو پوجا سے روکا تھا ۔ فریقین نے ایک دوسرے پر بھاری سنگباری کی اور ماحول انتہائی کشیدہ ہوگیا تھا ۔ سنگباری میں 24 کے قریب افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ بعد میں مقامی پولیس اسٹیشن میں دلت برادری اور دوسری برادریوں کے افراد نے ایک دوسرے کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی ہے ۔ دلتوں نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں مندر میں داخلہ سے روکا گیا ہے ۔ اس واقعہ کے بعد سارے علاقہ میں کشیدگی پیدا ہوگئی تھی اور پولیس نے اپنی مستعدی سے صورتحال کو قابو میں کیا ۔ علاقہ میں اس مسئلہ پر گذشتہ چند دن سے تنازعہ چل رہا تھا ۔