ذمہ داران مدارس وقت اور حالات کے مطابق اپنے اندر اصلاحات کی فکر کریں
رابط مدارس اسلامیہ عربیہ تلنگانہ کا خصوصی و عمومی اجلاس
حیدرآباد، 21 جون (راست) رابط مدارس اسلامیہ عربیہ تلنگانہ، شاخ کل ہند رابط مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبند کے زیر اہتمام ایک روزہ خصوصی و عمومی اجلاس بروز جمعرات 18 جون ریڈ روز پیالس، نامپلی منعقد ہوا، جس میں ریاست بھر کے مدارس کے ذمہ داران، علماء کرام، ائمہ مساجد، حفاظ، طلبہ اور عوام الناس کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اجلاس کی پہلی نشست برائے ذمہ داران مدارس رکھی گئی تھی۔ صدارت امیر شریعت حضرت مولانا شاہ جمال الرحمن مفتاحی نے کی ۔ مہمان خصوصی کی حیثیت سے مفتی ابوالقاسم نعمانی، مہتمم وشیخ الحدیث دار العلوم دیوبند وصدر کل ہند رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ اور نائب مہتمم مولانا مفتی راشد اعظمی نے شرکت فرمائی۔ نشست کا آغاز مولانا قاری عبد الباری کی تلاوت قرآن مجید اور مفتی عبد السلام کی نعت خوانی سے ہوا، اس اجلاس میں حضرت مہتمم نے اپنے خطاب میں مدارس کے ذمہ داران سے دردمندانہ اپیل کی کہ وہ وقت اور حالات کے حساب سے مناسب اصلاحات کی فکر کریں۔ نظام تعلیم وتربیت پر خصوصی توجہ دیں ،طلباء کی رہائش، کھانے پینے کا نظم معیاری اور حکومتیں قوانین کے مطابق رکھیں نیز مدرسہ کے حسابات مالیات کو بھی صاف ستھرا رکھنے کی فکر کریں ،نیز کوئی قابل اعتماد سی اے کے ذریعہ ان حسابات کو ایڈٹ بھی کروائیں، مدرسہ کی زمینی حیثیت اور کاغذات کو بھی قانونی اعتبار سے درست رکھیں ،حضرت نے اپنے خطاب میں ذمہ داران مدارس سے گزارش کی کہ موجودہ ملکی حالات میں اپنے مدرسہ کو رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ سے جوڑے رکھیں ،نیز معیار تعلیم میں بلندی اور یکسانیت کے لئے رابطہ کے تحت ہونے والے اجتماعی امتحان میں اپنے مدرسہ کو بھی شامل رکھیں۔ آخر میں ریاستی رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ تلنگانہ کی جانب سے منعقد ہونے والے پہلے اجتماعی امتحان کی کامیابی پر اطمینان کا اظہار فرمایا اور حضرت مولانا محمد عبدالقوی کی خدمات کی ستائش کی، ان کو اور انکے رفقائے کار کو اس پر مبارکبادی۔ نائب مہتمم مفتی راشد اعظمی نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ فتنوں کے اس دور میں مدارس اسلامیہ کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے نسل نو کے دین وایمان کی حفاظت میں مدارس اسلامیہ کو مستحکم کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے ،مدرسہ صرف تعلیم وتعلم تک محدود نہ رہے بلکہ علاقہ میں لوگوں کی اعتقادی اور فکری تربیت بھی مدارس کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ امیر شریعت حضرت مولانا شاہ جمال الرحمن مفتاحی نے اپنے صدارتی خطاب میں ذمہ داران مدارس سے گزارش کی کہ وہ آپسی اتحاد کو مضبوط رکھیں ، موجودہ حالات میں مدارس کے لئے ایک مضبوط وفاق کی اہمیت ہے اور رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبندکی نگرانی میں اس کام کو بخوبی انجام دے رہاہے۔ صدر نے ذمہ داران مدارس کو توجہ دلائی کہ وہ اپنے معاملات کو شرعی وقانونی ہر دو اعتبار سے معیاری رکھیں ،قبل ازیں مولانا محمد عبدالقوی صدر ریاستی رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ تلنگانہ نے اپنے افتتاحی خطاب میں اجلاس کے مقاصد اور رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ کے مقاصد کو تفصیل سے بیان کیا اس موقعہ پر انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ حالات میں ذمہ داران مدارس اب بے فکری کے ساتھ نہیں رہ سکتے مدارس کو موجودہ حالات اور تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے ،ہمارے اسلاف کے طرز کو باقی رکھتے ہوئے اس نشست میں ریاست کے اکابر علماء جن میں قابل ذکر مولانا مفتی احسان الدین قاسمی، مولانا مفتی غیاث الدین رحمانی، مولانا امیر اللہ خان قاسمی ، مولانا مفتی محمد بن عبدالرحیم بانعیم، مولانا غیاث احمد رشادی،مولانا مصدق القاسمی صاحب ودیگر شامل تھے۔اس نشست کا اختتام مولانا سید اکبر مفتاحی کی دعا پر ہوا ۔ اس موقعہ پر ناظم عمومی مولانا محمد سمیع الدین نے رابطہ کی تمام سرگرمیوں بالخصوص اجتماعی امتحان کی تفصیلی رپورٹ پیش کی، اس اجتماعی امتحان میں ریاستی سطح پر کامیاب ہونے والے شہر اور اضلاع کے مختلف مدارس کے تقریبا 118 طلباء کرام میں ریاستی رابطہ کی طرف سے بدست حضرت مہتمم ودیگر اکابرین انعامات اور توصیف نامے پیش کئے گئے اس نشست کی نظامت مفتی عبدالملک انس قاسمی نے بہ حسن و خوبی انجام دی۔ اس اجلاس کی دوسری نشست جلسہ عام کی تھی جس کا عنوان موجودہ حالات کی مناسبت سے عظمتِ صحابہؓ اور تحفظِ مدارس جس میں اکابر علماء کرام نے خطابات کیا۔اس اجلاس کے بھی مہمانان میں حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی (مہتمم دارالعلوم دیوبند و صدر کل ہند رابط مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبند) اور حضرت مولانا مفتی راشد اعظمی (نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند) شامل تھے، جنہوں نے اپنے خطابات میں صحابہؓ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عظمت، مدارسِ اسلامیہ کی خدمات، دینی تشخص کے تحفظ اور ملت کی ذمہ داریوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ اولا حضرت مولانا عبدالقوی برکاتہم نے عقائد کے تحفظ میں مدارس کے کردار پر نہایت بصیرت افروز خطاب کیا اس کے بعد مفتی راشد اعظمی نے عظمت صحابہ پر صحابہ کے عشق میں ڈوب کر اپنی اندرونی کیفییات کے ساتھ نہایت علمی اور تحقیقی گفتگو فرمائی، آخر میں مہتمم نے تحفظ مدارس اور ہماری ذمہ داریاں اس عنوان پر عوام الناس کو مدارس کی اہمیت اور ضرورت اور اس کے بقاء کی تدبیروں پر خطاب فرمایا ۔ اس دوسری نشست کی نظامت مولانا زکریا فہد قاسمی اور مفتی عبدالرحمن محمدمیاں قاسمی نے مشترکہ طور پر انجام دی۔ اجلاس عام کے کنوینر مولانا حافظ غوث رشیدی کے اظہارِ تشکر کے ساتھ جلسہ اختتام پذیر ہوا۔
اہل بیت اطہارؓ امت میں اتحاد کی علامت
مولانا ڈاکٹر احسن بن محمد الحمومی کا خطاب
حیدرآباد، 21 جون (راست) مولانا ڈاکٹر احسن بن محمد الحمومی امام و خطیب شاہی مسجد باغ عام نے کہا کہ قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں اہلِ بیتِ اطہارؓ کی محبت، تعظیم اور ادب کا حکم دیا گیا ہے۔ ان کا مقام نہایت بلند اور محترم ہے۔ اہلِ بیت سے محبت ایمان کا حصہ ہے اور ان کی عظمت و فضیلت کا اعتراف دین کی تعلیمات میں شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اللہ یہی چاہتا ہے کہ اے اہلِ بیت! تم سے ہر قسم کی آلودگی دور فرما دے اور تمہیں خوب پاک و پاکیزہ بنا دے‘‘۔ (سورۃ الاحزاب: 33) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’آپ فرما دیجئے کہ میں تم سے اس تبلیغِ دین پر کوئی اجر نہیں مانگتا، سوائے اپنے قرابت داروں کی محبت کے۔‘‘ (سورۃ الشوریٰ: 23) نبی اعظمؐ نے فرمایا: میں تمہارے درمیان دو عظیم چیزیں اللہ کی کتاب اور اپنے اہلِ بیت چھوڑے جا رہا ہوں۔ حضرت حسن بن علیؓ اور حضرت حسین بن علیؓ کے بارے میں نبی کریم ؐنے فرمایا: حسن ؓاور حسینؓ جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔ نبی کریم ؐنے فرمایا: میں تمہیں اپنے اہلِ بیت ؓکے بارے میں اللہ سے ڈراتا ہوں یعنی ان کا حق پہچانو اور ان کا احترام کرو۔ نبی رحمتؐ نے اپنے آخری حج سے واپسی پر 10 ہجری میں غدیر خم (مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ایک مقام) میں لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے حضرت علی بن ابی طالبؓ کے بارے میں فرمایا: جس کا میں مولا ہوں، علی بھی اس کے مولا ہیں۔ اہلِ بیتِ اطہارؓ کی خدمات صرف ایک خاندان کی خدمات نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کا عظیم ورثہ ہیں۔ نبی رحمتؐ نے فرمایا: ستارے آسمان والوں کے لیے امان ہیں، اور میرے اہلِ بیت میری امت کو اختلاف سے بچانے کا ذریعہ ہیں۔ علماء نے اس حدیث کی شرح میں بیان کیا ہے کہ اہلِ بیتِ اطہارؓ کی موجودگی، ان کا علم، ان کی سیرت، ان کی تعلیمات اور ان سے محبت امت کے لیے خیر، ہدایت اور اتحاد کا ذریعہ ہیں۔ جب امت اہلِ بیت کے حقوق پہچانتی اور ان کے نقشِ قدم پر چلتی ہے تو بہت سے فتنوں اور گمراہیوں سے محفوظ رہتی ہے۔ رسول اللہ ؐنے فرمایا کہ لوگوں عاشورہ کا روزہ رکھو۔ مجھے اللہ سے امید ہے کہ عاشورہ کا روزہ گزشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔ عاشورہ کا روزہ رکھو اور اس میں یہود کی مخالفت کرو، اس سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد بھی روزہ رکھو۔ اس روایت کا مفہوم یہ ہے کہ صرف دسویں محرم پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ اس کے ساتھ نویں محرم یا گیارہویں محرم کا روزہ بھی رکھا جائے، تاکہ یہود کے طریقے سے امتیاز رہے۔مولانا احسن الحمومی نے کہا کہ یکم محرم الحرام خلیفہ دوم حضرت سیدنا عمر بن خطابؓ کی شہادت کا دن ہے۔ نمازِ فجر میں ملعون ابولولو مجوسی نے اپنے خنجر سے حضرت سیدنا عمرؓ کو زخمی کیا۔ آپؓ کو روضہ اطہر کے قریب آسودہ خاک کیا گیا۔ حضرت عمرؓ کا تذکرہ نوجوانوں کو ہمت اور حوصلہ فراہم کرتا ہے۔ رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرؓ جیسی فولادی اور مضبوط شخصیت کے لیے دعا کی اور ان کے اندر بالکل مثبت انداز میں تبدیلی پیدا کی۔ سخت جانی دشمن کو بھی اسلام دوست بنانا اور اسے اسلام کے لیے تیارکرنا یہ رسولِ اعظمؐ کی سیرت ہے۔ جو جتنا سخت اور کٹر اسلام کا دشمن ہوگا؛اسلام کو اس سے اتنا ہی عظیم اور بڑا فائدہ ہوسکتا ہے۔ ہمارے اندر یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ دشمن کی دشمنی کو دوستی میں تبدیل کیا جائے۔ اس کی خوبیوں پر غور کیا جائے۔ حضرت عمرؓ کا قبول اسلام، پوری ایک نفسیات کو ظاہر کرتا ہے۔ اسلام تلواروں سے ڈرنے کا نہیں، بلکہ ان تلواروں کو اپنے حق میں استعمال کرنا کا نام ہے۔