نیٹ اور ایس ایس سی ۔ سی جی ایل پرچہ جات کے افشاء سے 24 تا 30 لاکھ طلبہ متاثر، امتحانی نظام کو فُل پروف اور شفاف بنانے کی ضرورت
حیدرآباد 21 جولائی (سیاست نیوز) ملک میں قومی اور ریاستی سطح پر امتحانات کے انعقاد میں مبینہ بے قاعدگیوں کے نتیجہ میں لاکھوں طلبہ کا مستقبل داؤ پر ہے۔ نیٹ 2026ء کے افشاء کے خلاف طلبہ تنظیموں کا نئی دہلی میں گزشتہ 22 دنوں سے احتجاج جاری ہے۔ جنتر منتر سے پارلیمنٹ کی طرف مارچ کی کوشش پر احتجاجیوں اور پولیس کے درمیان جھڑپ کے واقعات پیش آئے۔ طلبہ تنظیموں کے مطالبات کو اہم اپوزیشن پارٹیوں کی تائید حاصل ہوئی ہے۔ طلبہ کا مطالبہ ہے کہ امتحانات کے انعقاد میں شفافیت پیدا کی جائے اور خاص طور پر مسابقتی امتحانات میں کوئی بھی بے قاعدگی لاکھوں طلبہ کے مستقبل پر منفی اثر مرتب کرسکتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نیٹ 2026ء کے افشاء کے معاملہ میں مرکزی حکومت نے آج تک کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی اور نہ ہی قوم سے معذرت خواہی کی۔ قومی سطح پر مختلف امتحانات کے افشاء کی صورت میں طلبہ پر منفی اثرات کا جائزہ لینے کے لئے ایک سروے کا اہتمام کیا گیا۔ سروے کے مطابق گزشتہ ایک دہے کے دوران کئی مسابقتی امتحانات کے پرچہ جات کا افشاء ہوا ہے لیکن سب سے زیادہ طلبہ جس امتحان کے افشاء سے متاثر ہوئے ہیں وہ نیٹ ۔ یو جی 2026 ہے۔ سروے کے مطابق 24 لاکھ طلبہ کے تعلیمی مستقبل پر نیٹ پرچہ کے افشاء کا اثر پڑا۔ ایس ایس سی ۔ سی جی ایل مسابقتی امتحان کے افشاء سے تقریباً 30 لاکھ طلبہ متاثر ہوئے۔ دیگر مسابقتی امتحانات میں یو جی سی نیٹ، جے ای ای مینس، سی یو ای ٹی ۔ یو جی، ایس ایس سی ۔ ایم ٹی ایس، سی ٹی ای ٹی اور کے وی ایس ۔ پی جی ٹی امتحانات کے پرچہ جات کے افشاء کے نتیجہ میں کئی لاکھ طلبہ متاثر ہوئے۔ ملک میں وقفہ وقفہ سے پرچہ جات کے افشاء نے امتحانی سسٹم کو فُل پروف اور شفاف بنانے کے مطالبہ میں شدت پیدا کردی ہے۔ قومی سطح کے مسابقتی امتحانات کے علاوہ ریاستی سطح کے امتحانات کے افشاء کے معاملہ میں بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں کا ریکارڈ بھی ٹھیک نہیں ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ پرچہ جات کے افشاء کے بعد حکومتوں کی جانب سے اگرچہ دوبارہ امتحان منعقد کیا جاتا ہے لیکن طلبہ کی تیاری دوسرے امتحان میں متاثر رہتی ہے اور توقع کے مطابق نتائج حاصل نہیں ہوتے۔ نیٹ امتحان کے افشاء کے بعد مایوس ہوکر ملک بھر میں تقریباً 20 طلبہ نے خودکشی کرلی۔V/1/k/b