مسلمانوں کی حفاظت ، سلامتی اور بہبود حکومت کی ذمہ داری

   

شہریوں کو مذہب کی بنیاد پر منقسم نہ کرنے کا مطالبہ ۔ شانِ رسالت ﷺ میں گستاخی پر او آئی سی کا ردعمل

حیدرآباد۔6۔جون۔(سیاست نیوز) مسلم ممالک کی تنظیم آرگنائزیشن آف اسلامک کو آپریشن نے بھی ہندوستان میں شان رسالتﷺ میں گستاخی اور اقلیتوں پر ہونے والے مظالم پر آواز اٹھاتے ہوئے ہندوستان میں مسلمانوں کی حفاظت ‘ سلامتی اور بہبود کو یقینی بنانے کا حکومت ہند سے مطالبہ کیا اور اقوام متحدہ کو روانہ کردہ مکتوب میں ہندوستان کی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے حکومت ہند کو تمام شہریوں کے ساتھ یکساں سلوک اور انہیں مذہب کی بنیادوں پر منقسم نہ کرنے کی تاکید کا مطالبہ کیا گیا۔ 57مسلم ممالک جس کی رکنیت کیلئے آنجہانی وزیر خارجہ سشما سوراج کے دور وزارت کے دوران ہندوستان بھی کوشاں رہا۔ اس تنظیم کی جانب سے ہندستا ن میں مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچانے کے علاوہ ان کی جائیدادوں کو مسمار کرنے ‘ اسلامی تشخص اور عبادتگاہوں کو نشانہ بنائے جانے کی مذمت کرتے ہوئے کہاگیا ہے کہ ہندستانی ریاستوں میں مسلمانوں کو حجاب‘ اذان‘ مساجد‘ غذاء کے علاوہ ان کے تجارتی املاک اور دیگر کو نشانہ بناتے ہوئے انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے۔ او آئی سی نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ہندوستان میں مسلمانوں میں خوف و ہراس پیدا کئے جانے کے معاملات سے نمٹنے کے اقدامات کرے تاکہ ہندستانی مسلمانو ںمیں پیدا ہونے والے خوف کو دور کیا جاسکے اور وہ بھی ملک میں اول درجہ کے شہری کے طرز پر زندگی گذار سکیں۔ او آئی سی کے اس مطالبہ پر اقوام متحدہ کی جانب سے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا لیکن حکومت ہند کے وزارت خارجہ نے اوآئی سی کے بیان پر شدید اعتراض کیا ہے۔ ہندوستان میں حجاب‘ گوشت‘ اذان‘ عبادت گاہوں کو نشانہ بنائے جانے کے علاوہ ان کی جائیدادوں کو مسمار کرنے اور ان کے سماجی بائیکاٹ کے نظریہ کو فروغ دینے کی کوشش کو افسوسناک قرار دیا گیا ۔آرگنائزیشن آف اسلامک کو آپریشن نے شان رسالت ﷺ میں کی گئی گستاخی پر غیر مشروط معذرت خواہی اور گستاخی کے مرتکبین کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا تاکہ مستقبل میں اس طرح کی کوئی حرکت نہ ہو۔