مسلم رائے دہندوں کو نشانہ بنانے کی کوششیںافسوس ناک

   

غیر درست اعتراضات کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے محمد سلیم کا مطالبہ
حیدرآباد۔3 اکتوبر (پریس نوٹ) سابق رکن قانون ساز کونسل و صدرنشین تلنگانہ وقف بورڈ و ریاستی حج کمیٹی جناب محمد سلیم نے تلنگانہ خاص کر حیدرآباد میں بی جے پی کی جانب سے فہرست رائے دہندگان پر خصوصی عمیق نظرثانی کے دوران اہل مسلم رائے دہندوں کو نشانہ بناتے ہوئے ان کے نام مسودہ فہرست سے حذف کروانے کی کوششوں کی سخت مذمت کی۔ جناب محمد سلیم نے چیف الکٹورل آفیسر تلنگانہ مسٹر سی سدرشن ریڈی سے مطالبہ کیا کہ جھوٹے اور غلط طور پر اعتراضات داخل کرنے والوں کے خلاف جھوٹی شہادت دینے‘غلط بیانی سے کام لینے اور انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوششوں پر قانون عوامی نمائندگی عوام۔1950کی دفعہ 30 کے علاوہ بھارتیہ نیایا اسنہتا۔2023کی دفعہ 227اور 171کے تحت مقدمات درج کرواتے ہوئے انہیں قرار واقعی سزا دلائی جائے۔ جناب محمد سلیم نے ایک صحافتی بیان میں کہا کہ مشیر آباد، گوشہ محل‘ بہادر پورہ کے علاوہ دیگر مقامات سے چند افراد کی جانب سے بڑی تعداد میں پہلے سے طبع شدہ فام۔7 کے ادخال کی شکایات موصول ہورہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ فام۔7 کے تحت اعتراضات داخل کرنے والوں میں بڑی تعداد بی جے پی کے کارکن بشمول بی جے پی کے بوتھ لیول ایجنٹس کے ملوث ہونے کے ناقابل تردید شواہد ہیں۔ جناب محمد سلیم نے تلنگانہ کے چیف الکٹورل آفیسر سے خواہش کی کہ وہ سیاسی پارٹیوں کے قائدین اور کارکنوں کی جانب سے فام۔7 کی شکل میں موصول ہونے والے اعتراضات کا باریک بینی سے جائزہ لیں اور ایسے اعتراضات کے غلط‘ غیر درست اور جھوٹے ثابت ہونے پر سخت قانونی کارروائی کریں۔