وزیر اعظم مودی کے والد پر تبصرہ کھرگے کے بیان پر سیاسی ہنگامہ

,

   

پٹنہ۔25؍اکتوبر ( ایجنسیز )پٹنہ میں کانگریس صدر نے مبینہ وزیر اعظم مودی کے والد سے متعلق نامناسب الفاظ کا استعمال کیا جس پر بی جے پی نے تنقید کرتے ہوئے کھرگے اور راہول گاندھی سے عوامی معافی کا مطالبہ کیا ہے۔کانگریس صدر کے اس بیان نے بہار سے لیکر قومی سیاست تک تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔

بی جے پی اور آر ایس ایس دلتوں کو مساوات کا حق نہیں دینا چاہتے :کھرگے

پٹنہ، 25 اکتوبر (یو این آئی) کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے نے بی جے پی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پر دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کو فروغ دینے کا الزام لگاتے ہوئے اتوار کو کہا کہ آزادی کے 8 دہائیوں بعد بھی ملک میں ذات پات کا امتیاز برقرار ہے اور جب تک ملک کی بڑی آبادی کو مساوات اور اپنائیت کا حق نہیں ملے گا، تب تک قومی اتحاد کا مقصد پورا نہیں ہو سکتا۔پٹنہ کے باپو سبھا گار میں بہار کیسری ڈاکٹر شری کرشن سنگھ کے 139ویں یوم پیدائش کے موقع پرتقریب سے خطاب کرتے ہوئے کھرگے نے کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس چھوا چھوت کے حامی ہیں اور وزیر اعظم نریندر مودی بھی دلتوں کی حالت میں بہتری نہیں چاہتے ۔ انہوں نے اپنے ہلدوانی دورے کا ذکر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ 8 اگست 2026 کو وہاں رام لیلا میدان میں ان کی عوامی ریلی کے بعد بی جے پی اور آر ایس ایس سے وابستہ لوگوں نے اس اسٹیج کی ہون کرکے تطہیر کی تھی، جہاں ان کا پروگرام منعقد ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں پارلیمنٹ میں بی جے پی کے صدر جے پی نڈا نے افسوس کا اظہار کیالیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ اس کے برعکس راہول گاندھی کے خلاف ایف آئی آر درج کرا دی گئی۔ کھرگے نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم آئین کے بارے میں بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں لیکن ذات پات کی سوچ رکھنے والوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔کانگریس صدر نے کہا کہ شری کرشن سنگھ جدید بہار میں جمہوریت کی بنیاد مضبوط کرنے والے رہنماؤں میں شامل تھے ۔ انہوں نے زمینداری کا خاتمہ کرا کے‘ کمزور طبقوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کرکے سماجی انصاف کا ایک نیا باب شروع کیا۔ زراعت، صنعت، تعلیم، آبپاشی اور اداروں کی ترقی میں ان کا تعاون ناقابل فراموش ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 1937 میں شری کرشن سنگھ کی قیادت میں بہار میں کانگریس کی پہلی حکومت بنی تھی اور 1946 میں دوسری حکومت قائم ہوئی۔ اس وقت انگریزوں کی حکومت تھی اور وزیر اعلیٰ کو پریمیئر کہا جاتا تھا۔ آئین کے تحت 1952 میں ہونے والے پہلے اسمبلی انتخابات کے بعد سے 31 جنوری 1961 تک شری بابو بہار کے وزیر اعلیٰ رہے ۔ کھرگے نے کہا کہ شری بابو کے دور حکومت میں زمینداری کے خاتمے ، زمین کی اصلاحات سے متعلق قوانین نافذ کیے گئے ۔
برونی آئل ریفائنری، کھاد کے کارخانے ، حرارتی بجلی گھر اور سندھری کھاد کارخانے جیسے صنعتی منصوبوں کو فروغ ملا۔ پہلا ریل و سڑک راجندر پل بھی ان کے دور کی اہم کامیابیوں میں شامل تھا۔ ان کے دور حکومت کے کئی منصوبے آج جھارکھنڈ میں بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس دور میں بہار کا شمار ملک کی بہتر انتظام والی ریاستوں میں ہوتا تھا اور کئی غیر ملکی ماہرین اقتصادیات نے بھی اس کی تعریف کی تھی۔