سائبر آباد پولیس نے 64 مقدمات میں ملوث 24 سالہ نوجوان کے خلاف ’پی ڈی ایکٹ‘ نافذ کر دیا

,

   

وہ اکیلے چلنے والے افراد اور ویران گھروں میں رہنے والے خاندانوں کو نشانہ بناتا تھا، اور انہیں زخمی کرنے یا جان سے مارنے کی دھمکی دے کر ان کی قیمتی اشیاء چھین لیتا تھا۔

حیدرآباد: سائبر آباد میں راہگیروں کو لوٹنے، گھروں میں چوری کرنے اور دو پہیہ گاڑیاں (موٹر سائیکلیں وغیرہ) چوری کرنے کے الزام میں 24 سالہ نوجوان کو ’پریونٹیو ڈیٹینشن (پی ڈی ) ایکٹ‘ کے تحت جیل بھیج دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق اس کے خلاف 64 مجرمانہ مقدمات درج ہیں۔

سائبر آباد پولیس کمشنر ایم رمیش نے ڈیرانگولا روی، عرف ’گاجا‘ (جسے ’گاجا ڈونگا‘ بھی کہا جاتا ہے) کو ’غنڈہ‘ قرار دیتے ہوئے اسے حراست میں رکھنے کا حکم دیا۔ اسے میڈچل ضلع کی چیراپلی سینٹرل جیل میں رکھا گیا ہے۔

پولیس نے بتایا کہ جیڈی میٹلا کی سورارام کالونی کا رہائشی روی، جلد پیسہ کمانے کی خاطر جرائم کی دنیا میں آ گیا۔ وہ اکیلے چلنے والے افراد اور ویران گھروں میں رہنے والے خاندانوں کو نشانہ بناتا تھا، اور انہیں زخمی کرنے یا جان سے مارنے کی دھمکی دے کر ان کی قیمتی اشیاء چھین لیتا تھا۔

بتایا جاتا ہے کہ وہ رات کے وقت رہائشی علاقوں میں گھومتا، بند گھروں کے تالے توڑ کر اندر داخل ہوتا اور سونے چاندی کے زیورات اور دیگر قیمتی سامان لے اڑتا تھا۔ پولیس کے مطابق، جو لوگ اسے روکنے کی کوشش کرتے، ان پر وہ چاقو اور دیگر خطرناک ہتھیاروں سے حملہ کرتا تھا۔

روی پر کھڑی ہوئی دو پہیہ گاڑیاں چوری کرنے اور ہر بار موقع واردات سے فرار ہو جانے کا بھی الزام ہے۔

سورارام پولیس نے حال ہی میں روی کو گرفتار کر کے جیل بھیجا تھا۔ اس کے بعد سائبر آباد پولیس نے اسے مزید حراست میں رکھنے اور مستقبل میں ممکنہ جرائم سے روکنے کے لیے اس کے خلاف ’پی ڈی ایکٹ‘ کا نفاذ کر دیا۔