’مسٹر ہیری! جن کو آپ نے قتل کیا وہ شطرنج کے مہرے نہیں انسان تھے‘

   

امید نہیں کہ ان ہلاکتوں کی انسانی حقوق کارکن مذمت کریں گے لیکن یہ جنگی جرائم ہیں: انس حقانی

دوحہ: افغان طالبان قائد انس حقانی نے افغانستان میں جنگ کے دوران ایک مشن میں 25 افراد کو قتل کرنے کے برطانوی شہزادے ہیری کے اعتراف پر انھیں آڑے ہاتھوں لے لیا اور اس بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی شہزادے ہیری کی کتاب اسپیر جلد منظر عام پر آنے والی ہے جس میں شہزادے نے کئی حیران کن انکشافات اور اعترافات کیے ہیں جس سے ایک نئی بحث چھڑ گئی۔ شہزادہ ہیری نے جو برطانوی فوج کا 10 سال تک حصہ رہے، خود نوشت کے سامنے آنے والے ایک اقتباس میں اعتراف کیا کہ افغان جنگ کے دوران بطور پائلٹ خدمات انجام دیں اور 6 فضائی کارروائیوں میں حصہ لیا۔ برطانوی شہزادے نے لکھا کہ ان فضائی کارروائیوں میں 25 افراد ہلاک ہوئے جس کا نہ تو انھیں کوئی دکھ ہے اور نہ ہی وہ اس پر فخر کرتے ہیں کیوں کہ مرنے والے جنگ کی شرنج کے مہرے تھے۔ اس پر ردعمل دیتے ہوئے افغان طالبان قائدین اور قطر میں مذاکراتی ٹیم کے رکن انس حقانی نے ٹوئٹر پر لکھا کہ مسٹر ہیری! جن کو تم نے مارا وہ شطرنج کے مہرے نہیں جیتے جاگتے انسان تھے۔ ان کا بھی خاندان تھا جو اپنے عزیزوں کی بحفاظت واپسی کے منتظر تھے۔ انس حقانی نے شکوہ کیا کہ جنگ کے دوران افغان شہریوں کو قتل کرنے والوں میں سے بہت سے لوگ اپنے مافی الضمیر کو ظاہر کرنے اور جنگی جرائم کے اعتراف میں شائستگی کا اظہار نہیں کرتے۔ طالبان قائد قائدیننے یہ بھی لکھا کہ سچ وہی ہے جو آپ نے کہا۔ ہمارے معصوم لوگ آپ کے سپاہیوں، فوجی اور سیاسی لیڈروں کے لیے شطرنج کے مہرے تھے۔ پھر بھی آپ کو سفید اور سیاہ مربع کے اس کھیل میں شکست ہوئی۔انس حقانی نے خیال ظاہر کیا کہ آپ کے اس اعتراف پر مجھے امید نہیں ہے کہ آئی سی سی آپ کو طلب کرے گی یا انسانی حقوق کے کارکن آپ کی مذمت کریں گے کیونکہ وہ آپ لوگوں کے معاملے میں بہرے اور اندھے ہوجاتے ہیں لیکن امید ہے کہ تاریخ انسانیت میں آپ کے مظالم کو یاد رکھا جائے گا۔ طالبان نے کہا کہ انہیں امید نہیں کہ معصوم افغانوں کو ہلاک کرنے کا اعتراف کے باجود عالمی عدالت انصاف پرنس ہیری کو طلب کرے گی یا انسانی حقوق کے کارکن مذمت کریں گے، لیکن یہ جنگی جرائم ہیں اور تاریخ ان مظالم کو یاد رکھے گی۔ برطانوی شاہ چارلس کے بیٹے پرنس ہیری نے اپنی خودنوشت اسپیئر‘ میں اعتراف کیا ہے کہ افغانستان میں امریکی اتحادی افواج میں ہیلی کاپٹر کے پائٹ کے طور پر خدمات سرانجام دینے کے دوران انہوں نے 25 لوگوں کو مارا تھا کیونکہ وہ برے لوگ تھے۔ شہزادہ ہیری نے ہلاک کیے جانے والے لوگوں کو شطرنج کے مہروں سے تعبیر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ وہ 25 انسان تھے: ”بلکہ وہ جنگ میں دشمن کے جنگجوؤں کو شطرنج کی بساط سے اٹھائے جانے والے مہروں طرح سمجھتے ہیں۔ افغانستان میں برسراقتدار طالبان کے سینئر قائد انس حقانی نے برطانوی شہزادہ ہیری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا انہوں نے افغانستان میں جن لوگوں کو قتل کیا وہ شطرنج کے مہرے نہیں بلکہ انسان تھے۔ طالبان قائد نے لکھا، مسٹر ہیری! جن کو تم نے مارا وہ شطرنج کے مہرے نہیں تھے، وہ انسان تھے۔ ان کے خاندان تھے جو ان کی واپسی کا انتظار کر رہے تھے۔