٭ روزنامہ سیاست کی صحافتی ملی و قومی خدمات پر ایک طالب علم کی پی ایچ ڈی
٭ ادارہ سیاست کی خدمات دنیا بھر میں مثالی ، جناب زاہد علی خان کے حق میں دعا
حیدرآباد ۔ 19 ڈسمبر ( سیاست نیوز) روزنامہ ’’سیاست‘‘ کی ملکی و ملی خدمات پر حیرت ہوتی ہے یقیناً اردو کے اس اخبار نے اپنے فلاحی کاموں کے ذریعہ نہ صرف ہندوستان بلکہ ساری اردو دنیا میں ایک روشن مثال قائم کی ہے ۔ روزنامہ سیاست جناب زاہد علی خان کی قیادت میں جو غیر معمولی خدمات انجام دے رہا ہے ان خدمات کو دیکھ کر یہی کہا جاسکتا ہے کہ اس طرح کی خدمات کیلئے اللہ عزوجل اپنے بندوں میں سے چند بندوں کو منتخب کرتا ہے اور ان سے خدمت خلق کا کام لیتا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار مصری سنیٹر اور مصری سنیٹ کی کمیٹی برائے مذہبی اُمور کے چیرمین پروفیسر یوسف عامر نے ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خان سے ملاقات میں کیا ۔ دفتر روزنامہ سیاست آمد پر نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خان نے ان کا خیرمقدم کیا ۔ واضح رہے کہ وہ سابق میں عالم اسلام کی عظیم دینی درسگاہ جامعتہ الازہر کے تعلیمی و طلبہ سے متعلق اُمور کے نائب صدر کی حیثیت سے بھی نمایاں خدمات انجام دیں ۔ محترم پروفیسر یوسف عامر دراصل عثمانیہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کی جانب سے منعقدہ دو روزہ عالمی سمینار میں بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کیلئے آئے ہوئے تھے چونکہ وہ روزنامہ سیاست کی قومی و ملی خدمات سے اچھی طرح واقف تھے اس لئے پروفیسر ایس اے شکور سابق صدر شعبہ اردو عثمانیہ یونیورسٹی و سابق ڈائرکٹر تلنگانہ اردو اکیڈیمی کے ہمراہ بطور خاص جناب زاہد علی خان سے ملاقات کیلئے دفتر سیاست پہنچے ۔ اس موقع پر انہوں نے تفصیلی اور خوبصورت انداز میں جامعتہ الازہر میں چلائے جارہے اردو کورس ، ان کورس میں زیر تعلیم اور فارغ التحصیل طلبہ اور وہاں کے جاریہ فروغ اردو کے اقدامات سے متعلق بتایا ۔ پروفیسر یوسف عامر نے دوران گفتگو یہ انکشاف بھی کیا کہ جامعتہ الازہر کے شعبہ اردو سے ایک طالب علم نے روزنامہ سیاست کی صحافتی ، سماجی ، اقتصادی و ملی خدمات پر پی ایچ ڈی کی تکمیل کی جو شائد دنیا بھر کے اردو اخبارات کیلئے ایک منفرد اعزاز ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ پروفیسر یوسف عامر مصر میں اردو کی پہچان اور اس کی مٹھاس ، عالمگیریت اور اس کی وسعت کی شناخت بنے ہوئے ہیں ، وہ اس قدر متاثر کن اور ہمارے انداز میں اردو گفتگو کرتے ہیں کہ جس کسی کی سماعت سے بھی ان کی زبان سے ادا ہونے والے اردو الفاظ ٹکراتے ہیں تو وہ حیرت زدہ رہ جاتا ہے ۔ انہوں نے جناب زاہد علی خان کو بتایا کہ مصر کی کئی یونیورسٹیز اور خاص طور پر جامعتہ الازہر میں اردو کے علیحدہ شعبے کام کرتے ہیں اور وہ خود سال 2008 سے شعبہ اردو زبان و ادب فیکلٹی لڑکے زبان و ترجمہ الازہر یونیورسٹی میں اردو کے پروفیسر کی حیثیت سے نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ وہ انگریزی ، فارسی اور اردو پر غیر معمولی عبور رکھتے ہیں اور جامعتہ الازہر کی کم از کم 9 کمیٹیوں کے رکن بھی ہیں ۔ پروفیسر یوسف عامر کے مطابق جامعتہ الازہر میں طلبہ کو دینی تعلیم کے ساتھ عالمی سیاست ، اقتصادیات ، سماجیات ، نفسیات سے متعلق غرض بے شمار علوم سے اچھی طرح واقف کروایا جاتا ہے تاکہ جب یہ طلبہ دوسروں کے سامنے اسلامی تعلیمات پیش کریں تب بہتر اور بااثر انداز میں یہ تعلیمات پیش کرنے میں کامیاب رہیں ۔ انہوں نے جامعتہ الازہر کے مفتیان کی جانب سے دیئے جانے والے فتاویٰ کے بارے میں بتایا کہ جو بھی فتوے جاری کئے جاتے ہیں وہ علاقہ حالات کے پس منظر کو مدنظر رکھتے ہوئے دیئے جاتے ہیں اور مفتیان کرام سیاسی ، طبی ، معاشی ، نفسیاتی مسائل پر ان شعبوں کے ماہرین سے مدد حاصل کرتے ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ مصر میں عیسائیوں کی آبادی 10فیصد ہے اور مصری معاشرہ میں اسلامی تعلیمات کے مطابق دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کا احترام کیا جاتا ہے جس کی مثال مصر میں موجودہ یہودی عبادت گاہوں کی حفاظت کا عمل ہے ۔ مصر میں یہودی بہت ہی مختصر تعداد میں ہے لیکن ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت حکومت کرتی ہے ۔ ویسے بھی دین اسلام دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کی عبادت گاہوں کے تحفظ پر زور دیتا ہے ۔ ایک مرحلہ پر پروفیسر یوسف عامر کا کہنا تھا کہ صرف ان چیزوں کو توڑا جاتا ہے جن کی عبادت کی جاتی ہے ۔ چنانچہ حضرت عمر بن العاص نے جب مصر فتح کیا تب انہوں نے اہرام مصر کو منہدم نہیں کیا کیونکہ اس کی پوجا نہیں کی جاتی ، اس سلسلہ میں انہوں نے ایک قرآنی حوالے سے بتایا کہ ’’ یقیناً ہم نے تمام اولاد آدم کو بڑی عزت دی ‘‘ اور ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم پیش کرتے ہوئے کہا ’’ عمدہ اخلاق کی تکمیل کرنے کیلئے مجھے بھیجا گیا ہے ‘‘ ۔ پروفیسر صاحب نے یہ بھی کہا کہ اسلام کی تین بنیادیں ہیں اور یہ تینوں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوسکتے ۔ پہلا عقیدہ ،دوسرا شریعت با احکام و معاملت ( اس میں عبادات ، معاملت شامل ہے ) اور تیسرا اخلاق ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جامعتہ الازہر میں انگریزی ، فرنچ ، سربائی ، عبرانی غرض تمام زبانیں پڑھائی جاتی ہیں ۔ جہاں تک اردو کا سوال ہے الازہر کے بوائز برانچ ، گرلز برانچ اور اسلامک اسٹیڈیز کی برانچ میں اردو کے تین شعبے ہیں جہاں چار سالہ بی اے اردو کورس کرایا جاتاہے ، ان تینوں شعبوں میں 150 طلبہ ہیں ۔ بی اے کے بعد ایم اے اور پھر پی ایچ ڈی کروائی جاتی ہے ۔ اس کے علاوہ مصر کی دوسری 5 یونیورسٹیز میں زبان اول کے طور پر اردو پڑھائی جاتی ہے جن میں قاہرہ یونیورسٹی ، جامعتہ العین الشمس ، اسکندریہ یونیورسٹی ، منصورہ یونیورسٹی اور طنطعا یونیورسٹی شامل ہیں ۔ اس موقع پر جے این یو کے پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین بھی موجود تھے ۔ جناب زاہد علی خان اور جناب عامر علی خان نے پروفیسر ڈاکٹر یوسف عامر کو خطاطی کے نادر و نایاب نسخے اور تحائف پیش کئے ۔