٭ حکومت کے پاس 2014 اور 2024 میں کروائے گئے سروے کا مکمل ڈیٹا موجود
٭ کے سی آر نے سماگرا کٹمبا سروے اور ریونت ریڈی نے SEEEPC سروے کروایا تھا
٭ بی جے پی کے عزائم کو ناکام بنانے فیملی شناختی کارڈ معاون و کارآمد ثابت ہوسکتا ہے
٭ کابینی اجلاس میںمنظوری دے کر آرڈیننس کی اجرائی کے ذریعہ کام آسان ہوسکتا ہے
حیدرآباد۔12جولائی(سیاست نیوز) تلنگانہ میں SIR کے دوران مسائل اور عوام میں اور خدشات کو دور کرکے بی جے پی کے منصوبوں کو ناکام بنانے میں ریاستی حکومت کلیدی کردار ادا کرسکتی ہے۔ حکومت نے SIR کی ہنگامہ آرائیوں کے آغاز سے قبل ہی تلنگانہ کے مکینوں کا گذشتہ 10 برسوں کے دوران 2مرتبہ سروے کروایا ہے اور اگر اس کی بنیاد پر حکومت یہ فیصلہ کرتی ہے کہ تمام تلنگانہ کے مکینوں اور شہریوں کو ’فیملی کارڈ‘ کی اجرائی عمل میں لائی جائے اور حکومت کی نگرانی میں کروائے گئے 2 سروے کی بنیاد پر ان کے ڈاٹا کو فیملی رجسٹر قرار دیا جائے تو کئی مسائل حل ہوجائیں گے اور جو الزام و خدشات ظاہر کئے جارہے ہیں کہ بی جے پی ‘ الیکشن کمیشن کے ذریعہ اپوزیشن کے رائے دہندوں کو نشانہ بنا رہی ہے اسے فوری ناکام بنایا جاسکتا ہے۔ حکومت کرناٹک نے ریاست کے مکینوں کو کسی طرح کے مسائل پیدا نہ ہوں اس کیلئے PRC مستقل رہائشی سرٹیفیکٹ کی اجرائی کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ کرناٹک میں حکومت سے مکینوں کا کوئی سروے نہیں کروایا گیا تھا لیکن تلنگانہ میں تشکیل تلنگانہ کے بعد اس وقت کے چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے 4 لاکھ سرکاری ملازمین کی خدمات حاصل کرکے ہر فرد کا سال 2014 میں ’سامگرا کٹمبا سروے‘ میں اندراج کرکے تلنگانہ کے ساکن 3کروڑ68 لاکھ شہریوں کا ریکارڈ اور ان کے معاشی و سماجی موقف کے علاوہ مکانات کی تمام تر تفصیلات اکٹھا کی تھیں اور 2024 میں چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ریاست بھر میں سماجی ‘ معاشی ‘ تعلیمی ‘ روزگار‘ سیاسی اور طبقاتی بنیاد پر ریاست میں 1کروڑ 12 لاکھ 15ہزار 134 مکانات کا سروے کروایا گیا اور اس میں نشاندہی تلنگانہ کے 3 کروڑ 54 لاکھ 77 ہزار554 افراد کی تفصیلات شامل ہیں جو کہ محکمہ اقتصادیات کے ریکارڈس میں محفوظ ہیں ۔ حکومت دونوں سروے کو بنیاد بناکر ان دونوں سروے کا حصہ رہنے والوں کو محض ان سروے کی بنیاد پر ہی ’فیملی شناختی ‘ جاری کرسکتی ہے کیونکہ تلنگانہ کے جو خاندان تلنگانہ میں مقیم ہیں یا ملک کی کسی اور ریاست سے تلنگانہ منتقل ہوئے ہیں انہیں بھی 2 مختلف سروے میں حصہ لینے والے شہری کے طور پر ’فیملی کارڈ‘ کی اجرائی عمل میں لائی جاسکتی ہے۔ مرکزی حکومت کے مطابق جن دستاویزات کو بطور شہریت قبول کیا جاسکتا ہے ان دستاویزات میں فیملی رجسٹر انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور حکومت تلنگانہ کے پاس تمام خاندانوں کا مکمل ریکارڈ موجود ہے ۔ حکومت نے قیام تلنگانہ کے بعد محض ایک دن میں 4 لاکھ سرکاری ملازمین کی خدمات حاصل کرکے جو ’سامگرا کٹمبا سروے‘ کروایا تھا اس میں حکومت نے جو پیمانے رکھے تھے ان میں ہر فرد کے متعلق 98 معلومات حاصل کی تھیں جن میں خاندانی آمدنی ‘ انفرادی آمدنی ‘ تعلیم ‘ مکان ‘ ذاتی یا کرایہ ‘ برقی ‘ انکم ٹیکس ‘ تلنگانہ میں رہائش کی مدت ‘ صحت ‘ طبی سہولت ‘ تعلیمی سہولیات و دیگرسوال شامل تھے ۔ حکومت نے جو تفصیلات حاصل کی تھیں وہ ڈاٹا اب بھی حکومت کے پاس موجود ہے۔ تلنگانہ میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد چیف منسٹر ریونت ریڈی نے تلنگانہ کے تمام افراد کا طبقاتی ‘ معاشی ‘ تعلیمی اور معاشرتی ایکس رے SEEEPC سروے کرواتے ہوئے اس کی رپورٹ بھی منظر عام پر لائی ہے۔ اس سروے میںبھی حکومت نے 42 امور سے متعلق سوالات کے ذریعہ ریاست کے مکینوں اور خاندانوںکی جامع تفصیلات حاصل کی تھیں جو کہ حکومت کے محکمہ اقتصادیات کے پاس محفوظ ہیں بلکہ محکمہ اقتصادیات نے ایک رپورٹ بھی جاری کردی ہے ۔ 2014 میں سرکاری سروے و سال 2024 میں دوسرے سروے میں سیاسی قائدین و عوامی نمائندوں نے ان سروے کی اہمیت کو اجاگر کرکے ان میں لازمی حصہ لینے کی اپیل کی تھی اور عوام نے دونوں میں جوش و خروش سے حصہ لے کر اپنی تفصیلات حکومت کے حوالہ کی تھیں ۔ حکومت تلنگانہ بالخصوص چیف منسٹر ریونت ریڈی ریاست میں بی جے پی کو مستحکم ہونے سے روکنا اور SIR کو دھاندلیوں سے پاک کرنا چاہتے ہیں تو انہیں کابینہ کا اجلاس طلب کرکے فوری دونوں سروے کو بنیاد بناکر سروے میں جن کے ریکارڈ موجود ہیں ان کو فوری ’فیملی کارڈ‘ کی اجرائی کو منظوری دینی چاہئے تاکہ شہریوں کو کسی نئے PRC یا رہائشی سرٹیفیکیٹ کیلئے نئی درخواست دینے کی ضرورت نہ رہے بلکہ ریاست میں کانگریس حکومت اگر چاہے تو دونوں سروے کے ریکارڈ کو یکجاکرکے مکمل تفصیلات پر مشتمل ایسے ’فیملی کارڈ‘ جاری کرسکتی ہے جن میں تمام مکینوں اور خاندانوں کا ڈاٹا موجود رہے گا۔ حکومت کو کسی نئے سروے ‘ درخواست یا تفصیلات کی ضرورت نہیں کیونکہ 10 سال پرانی تفصیلات کیلئے ’سامگرا کٹمبا سروے‘ کی تفصیلات موجود ہیں جبکہ نئی تفصیلات کیلئے 2024 کے SEEEPC سروے موجود ہیں ۔ دونوں سروے میںحاصل تفصیلات کو حکومت کابینہ میں ’آرڈیننس‘ کے ذریعہ ’می ۔سیوا‘ سے ’فیملی کارڈ‘ کی اجرائی کیلئے سروے میں فراہم فون نمبر پر OTP جاری کرکے کارڈ حاصل کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہے تو یہ کارڈ تلنگانہ کے شہریوں کی شناخت میں کلیدی اہمیت کا حامل بن سکتا ہے اور SIR کے ذریعہ جس انداز میں اقلیتوں کو نشانہ بنانے کی سازش کی جا رہی ہے ان کو ناکام بنانے کے ساتھ انہیں SIR کے دوسرے مرحلہ میںدستاویزات کی پیشکشی میں تکالیف سے محفوظ رکھ کر بی جے پی کی سازشوں کو ناکام بنایا جاسکتا ہے۔3