تیل اور گیس کی سپلائی دوبارہ خطرے میں‘خطہ میں پھر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں
تہران ۔12؍جولائی ( ایجنسیز)مغربی ایشیا میں ایک بار پھر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ چند دنوں سے بڑھ رہی کشیدگی اب فوجی جھڑپ میں تبدیل ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ ایران نے اتوار کو ’آبنائے ہرمز‘ کو اگلے حکم تک بند کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس کے صرف چند گھنٹے بعد امریکہ نے ایران کے کئی فوجی اڈوں اور اسٹریٹجک علاقوں پر تازہ فضائی حملے کر دیے۔ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی یہ کشیدگی عالمی سطح پر تیل اور گیس کی سپلائی کیلئے ایک بار پھر بڑا خطرہ بن گئی ہے۔ایران کی اسلامک ریولوشنری گارڈ کور (آئی آر جی سی) کی بحریہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایک جہاز نے مقررہ سمندری راستے کی پابندی نہیں کی تھی اور اپنے نیویگیشن سسٹم بھی بند کر دیے تھے۔ بیان کے مطابق وارننگ دینے کے باوجود جہاز نے اپنا راستہ تبدیل نہیں کیا جس کے بعد اسے نشانہ بنایا گیا۔ آئی آر جی سی کا دعویٰ ہے کہ کئی دیگر جہازوں نے بھی بغیر اجازت گزرنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو اگلے حکم تک مکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ایران نے واضح وارننگ جاری کر دی ہے کہ جب تک علاقے میں امریکہ کا عمل دخل ختم نہیں ہوتا، تب تک آبنائے ہرمز نہیں کھولا جائے گا۔ ایران نے مزید کہا ہے کہ اگر ایران کے خلاف کسی بھی طرح کی فوجی کارروائی ہوتی ہے تو بخشا نہیں جائے گا۔ پورے خطے میں امریکی اڈوں اور اس کے اتحادیوں کے فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔ ایران کے آبنائے ہرمز بند کرنے کے فیصلے کے بعد امریکہ نے جوابی کارروائی تیز کر دی ہے۔ امریکہ کا الزام ہے کہ ایران نے اس ہفتے قطر اور سعودی عرب کے تین کاروباری ٹینکروں پر حملے کرائے ہیں جس کے نتیجے میں جوابی کارروائی کی گئی ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے بتایا کہ اس ہفتے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے تیسرے مرحلے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ یہ حملہ ایران کی اسلامک ریولوشنری گارڈ کور کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے قبرص کے پرچم بردار کنٹینر جہاز ’ایم/ وی جی ایف ایس گلیکسی‘ پر کیے گئے حملے کے جواب میں کیا گیا۔ اس دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنا موقف مزید سخت کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اور ایران مذاکرات جاری رکھنے پر متفق ہوئے ہیں لیکن جون میں ہونے والی جنگ بندی اب ختم ہو چکی ہے۔حال ہی میں ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ امریکہ کی 1000 میزائلیں لاکڈ اینڈ لوڈڈ ہیں اور ضرورت پڑنے پر انہیں ایران کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔دوسری جانب سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ عمان، قطر اور پاکستان دونوں ممالک کے مابین کشیدگی کم کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔