ملک میں گزشتہ سال 1502 لاکھ ٹن چاول کی ریکارڈ پیداوار

   

اترپردیش اور تلنگانہ سرفہرست ، مانسون کی ناکامی سے جاریہ سال زرعی سرگرمیاں متاثر
حیدرآباد۔5 ۔ اکتوبر (سیاست نیوز) زرعی شعبہ کی پیداوار میں حالیہ برسوں میں ملک کی کئی ریاستوں میں چاول کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے ۔ مانسون کی صورتحال اور موسمی تبدیلی جیسے حالات کے درمیان کسانوں نے غذائی اجناس کے معاملہ میں دھان کو ترجیح دی ہے۔ سال 2024-25 کے دوران ہندوستان میں 1502 لاکھ ٹن چاول کی پیداوار ریکارڈ کی گئی۔ اترپردیش 208 لاکھ ٹن پیداوار کے ساتھ ملک میں سرفہرست رہا۔ تلنگانہ 174 لاکھ ٹن پیداوار کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے جبکہ مغربی بنگال میں 160 لاکھ ٹن چاول کی پیداوار ہوئی ۔ پنجاب اور چھتیس گڑھ میں علی الترتیب 144 اور 104 لاکھ ٹن چاول کی پیداوار ریکارڈ کی گئی۔ مدھیہ پردیش اور اڈیشہ کی حصہ داری 91 اور 95 لاکھ ٹن ہے۔ سروے میں بتایا گیا ہے کہ شمالی اور مشرقی ریاستوں کے علاوہ ملک کی جنوبی ریاستوں میں دھان کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے ۔ جاریہ سال کئی ریاستوں میں مانسون ناکام رہا جس کے نتیجہ میں سرکاری سطح پر کسانوں کو متبادل فصلوں کی ترغیب دی جارہی ہے۔ بارش کی کمی کے نتیجہ میں ایسی فصلوں کو اگایا جائے گا جن کیلئے پانی کی ضرورت کم رہے گی۔ آندھراپردیش میں گزشتہ سال 42 لاکھ ٹن چاول کی پیداوار ریکارڈ کی گئی ۔ اسی دوران مرکزی وزارت زراعت نے ملک میں خشک سالی سے متاثرہ ریاستوں کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے مانسون کی ناکامی سے زرعی شعبہ پر منفی اثرات کا جائزہ لیا۔ مرکز نے ریاستوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کسانوں کو متبادل فصلوں کی رہنمائی کریں تاکہ پانی کی کمی کی صورتحال سے موثر انداز میں نمٹا جاسکے ۔ ریاستوں سے کہا گیا ہے کہ وہ خشک سالی سے متاثرہ منڈلوں کی نشاندہی کرتے ہوئے مرکز کو رپورٹ روانہ کریں۔ 1/k/m/b