مویشیوں کے ٹرکوں کو روکنے پر سخت کارروائی کا مطالبہ، ایکناتھ شنڈے کامسلم قائدین کے ساتھ اجلاس
ممبئی :آج یہاں عید الاضحیٰ کے لیے وزیراعلی شری ایکناتھ شنڈے نے ایک خصوصی میٹنگ بلائی جس میں میونسپل کمشنر، میونسپل کارپوریشن کے افسران، پولیس کمشنر وغیرہ موجود رہے ، اس میٹنگ میں قریشی جماعت ایسوسی ایشن کے عہدیداران سماج وادی رہنماء اور ایم ایل اے ابوعاصم اعظمی ،ایم ایل اے رئیس شیخ، ایم ایل اے امین پٹیل، متلوب قریشی اور دیگر ممبران کے وفد کے ساتھ اہم مطالبات پیش کئے ۔میٹنگ میں مطالبہ کیا گیا کہ ممبئی سمیت مہاراشٹر میں پُر امن عیدالاضحی پرمویشیوں کے ٹرکوں کو روکنے پر سخت کارروائی کی جائے ۔تمام مسائل پر وزیر اعلیٰ ایکناتھ شنڈے نے تمام مطالبات کو مثبت طریقے سے پورا کرنے کا یقین دلایا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ عید الاضحیٰ (بقرہ عید) کے دوران کوئی رکاوٹ نہ آئے ۔اس موقع پر چند مطالبات پیش کیے گئے کہ گزشتہ سال دیونار سلاٹر ہاؤس میں جانوروں کی فیس معاف کردی گئی تھی، اسی طرح چیف منسٹر نے اس سال بھی فیس معاف کرنے کے مطالبے سے اتفاق کیا۔جبکہ دیونار سلاٹر ہاؤس میں تاجروں اور خریداروں کی گاڑیوں کو مفت پارکنگ فراہم کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ دیونار سلاٹر ہاؤس میں پینے کا پانی مفت کیا جائے گا اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ کینٹین وغیرہ میں فروخت ہونے والی چیزیں ایم آر پی پر فروخت ہوں۔دیونار سلاٹر ہاؤس میں صفائی کے لیے مزید صفائی عملہ کا تقرر کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ دیونار سلاٹر ہاؤس میں بینک کھولا جائے گا اور اے ٹی ایم کی سہولت فراہم کی جائے گی تاکہ تاجروں اور خریداروں کو سہولت مل سکے ۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ قربانی کے لیے زخمی یا بیمار جانور نہیں خریدے جاتے ، اس کے لیے تاجر خود جانوروں کا خاص خیال رکھتے ہوئے ٹرانسپورٹ میں کم جانور لے جاتے ہیں۔ چیف منسٹر نے پوری ریاست میں جانوروں کی نقل و حمل پر چھوٹ دینے کے مطالبے سے اتفاق کیا۔ اس موقع پر یقین دلایاگیاکہ بجرنگ دل یا سماج دشمن عناصر اگر جانوروں کی گاڑیوں کو روکتے ہیں تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس شکایت پر کہ میرا روڈ پر واقع جے پی انفرا میں قربانی کے جانوروں کو آنے سے روکا جاتا ہے ، وزیر اعلیٰ نے کمشنر سے اس مسئلے کو جلد حل کرنے کی ہدایت دی۔ دیونار سلاٹر ہاؤس میں ایک عارضی شیڈ قائم کرنے کے لیے ہر سال ٹینڈر جاری کیا جاتا ہے ، جو بارش کے موسم میں خراب ہو جاتا ہے ۔ میرا مطالبہ ہے کہ اس سلاٹر ہاؤس کے لیے مختص فنڈز سے اس شیڈ کو مضبوط اور مستقل طور پر تعمیر کیا جائے۔