موبائل فون نے انسانوں سے انسانیت کو دور کردیا

   

عیدین کی مبارکباد اور تعزیت شخصی کے بجائے آن لائن دینے پر اکتفا
حیدرآباد۔28۔ستمبر(سیاست نیوز) انسان ایک دوسرے سے کس قدر دور ہورہا ہے اس کا اندازہ لگانا اب مشکل نہیں رہا بلکہ موبائیل فون نے انسانوں سے انسانیت کو دور کردیا ہے اور اب حد یہ ہوچکی ہے کہ اسٹیٹس پر تعزیت کے ذریعہ یہ سمجھا جانے لگا ہے کہ مرحومین کے لواحقین و پسماندگان سے تعزیت کردی گئی ہے۔ موبائیل سے قبل عیدین کی مبارکباد کیلئے قریبی رشتہ داروں اور دوست و احباب سے ملاقات کرتے ہوئے مبارکباد پیش کی جاتی تھی لیکن موبائیل فون کی آمد اور ایس ایم ایس کلچر نے ان ملاقاتوں کے سلسلہ کو بند کردیا اور اس کے بعد جب واٹس ایپ شروع ہوا تو لوگوں نے واٹس ایپ پر مبارکبادی کے پیامات ترسیل کرنے شروع کردیئے لیکن اب جو صورتحال ہے اس میں سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور اسٹیٹس پر مبارکباد دیتے ہوئے یہ تصور کرلیا جاتا ہے کہ اپنی ذمہ داری پوری ہوچکی ہے ۔انسانی جذبات و احساسات کا اظہار موجودہ دور میںموبائیل اور سوشل میڈیا کے مرہون منت ہوچکا ہے۔ موبائیل انسانی زندگیوں پر کس قدر اثر انداز ہونے لگا ہے اس کا اندازہ اس کے بات چیت اور انٹرنیٹ کے استعمال کیلئے ہونے سے زیادہ جذبات و احساسات کے اظہار کیلئے کیا جانے لگا ہے اور موبائیل فون پر رنگ ٹون کے علاوہ واٹس ایپ کے ذریعہ اپنے احساسات کا اظہار کیا جا رہاہے جو کہ ظاہری طور پر اپنے جذبات و احساسات کو پیش کرنے والے ہے لیکن دلی صدمہ اور کیفیت کو ظاہر کرنے والے اعمال نوجوان نسل سے غائب ہوتے جا رہے ہیں۔ واٹس ایپ اسٹیٹس انسان کی زندگی کا اسٹیٹس ظاہر نہیں کرتا لیکن اس کے خیالات کی پراگندگی اور فکرتنزل کو ظاہر کرنے کیلئے کافی ہوتا جا رہا ہے ۔ انتقال کے موقع پر غمگین رنگ ٹون رکھنے سے یا اسٹیٹس پر مرحوم کیلئے دعائے مغفرت کرنے سے اس کے درجات بلند نہیں ہوتے اور نہ ہی لواحقین کو صبر حاصل ہوتا ہے لیکن موجودہ دور میں انتقال پر غمگین کلام اور اسٹیٹس پر اظہار افسوس پر اکتفاء کرتے ہوئے نماز جنازہ اور لواحقین سے ملاقات کے ذریعہ ان کے غم میں شریک ہونے سے اجتناب کیا جا رہاہے جو کہ افسوسناک طریقہ کار ہے لیکن ہر خاص و عام میں یہ پروان چڑھتا جا رہاہے۔ واٹس ایپ اسٹیٹس کے ذریعہ اپنے خیالات اور نظریات کو پیش کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے لیکن سوشل میڈیا کے ذریعہ پھیلائے جانے والے خیالات اور نظریات عملی زندگیوں میں شامل کرنے کیلئے منظم اقدامات کی ضرورت ہے اور نوجوانوں میں اس بات کا احساس پیدا کرنا ضروری ہوگیا ہے کہ اسٹیٹس پر اپ ڈیٹ کرنے سے یا غمگین رنگ ٹون رکھنے سے ثواب حاصل نہیں ہوتا بلکہ دین اسلام نے پیدائش ‘ نکاح‘ اموات غرض زندگی کے ہر پہلو میں امت کی رہنمائی کی ہے اس کے مطابق زندگی گذارنا ہی اسلام ہے اور اموات پر غمگین رنگ ٹون‘ اسٹیٹس پر صدمہ اور افسوس کے اظہار کے ساتھ دعائیہ کلمات ادا کرنا ہی کافی نہیں ہے۔م