مودی حکومت کی وداعی عنقریب ،گیانیش کمار کو استعفیٰ دینا ہوگا

   

رام لیلا میدان میں ’ ووٹ بچاؤ ، دیش بچاؤ ‘ مہاریلی سے ملکارجن کھرگے کا خطاب

نئی دہلی، یکم نومبر (یو این آئی) کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھرگے نے وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مودی حکومت کی وداعی کے دن قریب ہیں اور ہندستان میں ووٹ چوری کی سازش میں کردار ادا کرنے والے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو استعفیٰ دینا ہوگا اور ان کے خلاف تحقیقات بھی ہوگی۔مسٹر کھرگے نے اتوار کو یہاں رام لیلا میدان میں اپوزیشن کے ‘انڈیا’ اتحاد کی ‘ووٹ بچاؤ، دیش بچاؤ’ مہاریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور چیف الیکشن کمشنر عوام کی آواز سمجھ لیں، کیونکہ وہ لوگوں کا حق نہیں چھین سکتے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ آزادی کی دوسری جنگ ہے اور اپوزیشن اسے جیت کر رہے گا۔کانگریس صدر نے الزام لگایا کہ خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے نام پر تقریباً 14 کروڑ ووٹروں کے نام ہٹائے گئے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ ہٹائے گئے ناموں میں کتنے غیر ملکی شہری تھے ؟ انہوں نے دعویٰ کیا کہ چھ ریاستوں میں 10 کروڑ ووٹروں میں صرف 1,600 غیر ملکی ملے ہیں، جن میں زیادہ تر نیپال کے شہری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی دراندازوں کے نام پر جھوٹ بول رہی ہے اور ووٹر لسٹ میں ردوبدل کا استعمال انتخابی فائدے کے لیے کیا جا رہا ہے ۔مسٹر کھرگے نے الزام لگایا کہ مودی حکومت کو مہنگائی، بے روزگاری، کسانوں اور مزدوروں کے مسائل کی فکر نہیں ہے بلکہ اسے اپنی کرسی کی فکر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چند مخصوص سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے ، جبکہ سرکاری اداروں کی نجکاری سے روزگار اور ریزرویشن پر خطرہ پیدا ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کسانوں کو کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کی قانونی ضمانت دینے کا وعدہ پورا نہ ہونے کا معاملہ بھی اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں ووٹر حکومت منتخب کرتے ہیں لیکن مودی حکومت اپنی پسند کے ووٹر چننے میں لگی ہے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا نوجوانوں، کسانوں اور کمزور طبقوں کے ووٹ اس لیے کاٹے جائیں گے کہ وہ حکومت سے سوال پوچھتے ہیں اور اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں؟کانگریس صدر نے کہا کہ جمہوریت میں کوئی حکومت مستقل نہیں ہوتی اور عوام ہی طے کرتے ہیں کہ کون اقتدار میں رہے گا۔ انہوں نے وزیر اعظم کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ غرور میں یہ کہنا بند کریں کہ بی جے پی 30 یا 40 سال تک اقتدار میں رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ ووٹ دینے کا حق آئین سے ملا ہے ، کوئی خیرات نہیں، اور اسے کوئی چھین نہیں سکتا۔