وزیر اعظم نے اپنے پیادے کو چیف الیکشن کمشنر بنادیا : کھرگے
بی جے پی ‘ یو پی سے اقتدار پر آئی تھی ‘ یو پی سے ہی بیدخل ہوگی : اکھیلیش
انتخابات میں مجھے شکست نہیں ہوئی ‘ مجھے ہرایا گیا : ممتابنرجی
بہار میں بھی انتخابی عمل میں بے قاعدگیاں ہوئیں : تیجسوی یادو
ووٹر لسٹ سے باہر کروڑوں ہندو بھی کیا پاکستانی ہیں ؟ : فاروق عبداللہ
رام لیلا میدان تک تاریخی ریلی کے بعد جلسہ عام سے کئی قائدین کا خطاب
نئی دہلی، یکم نومبر (یو این آئی) اپوزیشن انڈیا اتحاد کے قائدین نے رام لیلا میدان میں منعقدہ ‘ووٹ بچاؤ، دیش بچاؤ’ ریلی میں وزیر اعظم نریندر مودی پر ووٹ چوری کے ذریعے جمہوریت کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ بی جے پی حکومت کو اقتدار سے ہٹائے بغیر جمہوریت کی حفاظت نہیں کی جا سکتی ۔اتحاد کے قائدین نے الزام لگایا کہ ووٹ چوری کیلئے نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار ذمہ دار ہیں۔ ملک کی جمہوریت کو ‘ووٹ چوری’ کر کے برباد کرنے کے ذمہ دار لوگوں کو بخشا نہیں جائے گا اور ان کے خلاف کارروائی کر کے سخت سزا دی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت کا خاتمہ طئے ہے اور رام لیلا میدان میں جمع بھیڑ بی جے پی حکومت کے زوال کا واضح اشارہ دے رہی ہے ۔ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے وزیر اعظم پر دلتوں، خواتین اور قبائلیوں کے ووٹ کٹوانے کا الزام لگایا اور کہا کہ وزیر اعظم نے اپنے ایک پیادے کو چیف الیکشن کمشنر کی کرسی پر بٹھا کر عوام کے ووٹ کٹوائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انڈیا اتحاد گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے متحد ہوا ہے اور جب تک انہیں ہٹایا نہیں جاتا تب تک جدوجہد جاری رہے گی۔انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت جانچ ایجنسیوں کا استعمال کر کے اپوزیشن کو ڈرانے اور اس میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن اپوزیشن جماعتیں ڈرنے والی نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مودی کو جانا ہوگا، تبھی جمہوریت بچے گی اور بی جے پی حکومتوں کو ہٹانے سبھی کو متحد ہو کر لڑنا ہوگا۔ اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے مودی، امیت شاہ اور مسٹرگیانیش کمار پر ووٹ چوری کر کے جمہوریت کو کمزور کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ ووٹ چوری کرنے والے بچ نہیں سکتے اور ان کے خلاف کارروائی ہوگی نیز انہیں سزا ملے گی۔انہوں نے الزام لگایا کہ مدھیہ پردیش، ہریانہ، چھتیس گڑھ اور مہاراشٹر سمیت کئی ریاستوں کے انتخابات میں ووٹ چوری ہوئی ہے ۔ قائد اپوزیشن نے کہا کہ مودی حکومت نے سی بی آئی، ای ڈی، عدلیہ اور بیوروکریسی جیسے اداروں پر قبضہ کر لیا ہے ، جس سے غریبوں، کسانوں، مزدوروں اور نوجوانوں کو ان کا حق نہیں مل رہا ہے ، جبکہ صنعت کاروں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے ۔ سماجوادی پارٹی صدر اکھیلیش یادو نے الزام لگایا کہ اتر پردیش میں ایک کروڑ 27 لاکھ ووٹروں کے نام کاٹے گئے اور سماجوادی حامی ووٹروں کے نام چن چن کر ووٹر لسٹ سے ہٹائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں الیکشن کمیشن سے شکایت کی گئی، لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی ۔ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی کو معلوم ہے کہ عوام اسے ووٹ نہیں دیں گے ، اس لئے اس نے ووٹ چوری کیلئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ہتھیار بنایا ہے ۔ انہوں نے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں بھی دھاندلی کا الزام لگایا۔مسٹریادو نے کہا کہ رام لیلا میدان میں جمع آج کی بھیڑ تبدیلی کا اشارہ ہے اور یہ میدان سیاسی تبدیلی کی ‘ہلدی گھاٹی’ بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اتر پردیش سے ہی اقتدار میں آئی تھی اور اب جلد ہی اتر پردیش سے ہی اس کے اقتدار کا خاتمہ ہونے جا رہا ہے ۔ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے کہا کہ ان کی پارٹی ایس آئی آر سے متاثر ہے ، لیکن وہ ڈرنے والی نہیں ہیں اور اپنی لڑائی جاری رکھیں گی۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر پر ووٹوں کے مینجمنٹ کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ الیکشن میں ہاری نہیں تھیں، بلکہ انہیں ہرایا گیا تھا۔ انہوں نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے سے بھی جمہوریت کو لوٹنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے تمام طبقات کے عوام سے بی جے پی کو ہٹانے متحد ہونے کی اپیل کی۔راشٹریہ جنتا دل کے لیڈر تیجسوی یادو نے مہابھارت کے شکونی کے پاسوں کی مثال دی کر انتخابی عمل پر سوال اٹھائے ۔ انہوں نے کہا کہ شکونی کے پاسے اسی سمت میں گرتے تھے جہاں وہ چاہتا تھا۔ انہوں نے اس مثال کے ذریعے انتخابی عمل میں گڑبڑی کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ اقتدار میں برقرار رہنے آئینی اداروں کو ختم کیا جا رہا ہے ۔نیشنل کانفرنس کے لیڈر فاروق عبداللہ نے کہا کہ بی جے پی و راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے لوگ مسلمانوں پر انگلی اٹھاتے ہیں جبکہ ملک کے مسلمان اسی مٹی کا حصہ ہیں اور اسی ملک کیلئے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایس آئی آر کے ذریعے کروڑوں ہندوؤں کے نام بھی ووٹر لسٹ سے ہٹائے گئے ہیں تو کیا وہ بھی پاکستانی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ آئین ہند تمام شہریوں کو برابر مانتا ہے اور عوام کو اپنے حق رائے دہی کا استعمال کر کے بی جے پی کو ہٹانے اور ملک کو بچانے آگے آنا چاہیے ۔ پی ڈی پی کی لیڈر محبوبہ مفتی نے چندے سے جڑے مسائل اٹھاکر بی جے پی پر تنقید کی ۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں پر چندے کی چوری کے الزامات ہیں، ان کی نیت پر سوال اٹھنا فطری ہے ۔’انڈیا’ اتحاد کے لیڈروں نے ووٹر لسٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں کو جمہوریت کیلئے سنگین خطرہ قرار دیا ۔