ہائی کمشنر کی چیف منسٹر ریونت ریڈی سے ملاقات، دورہ کینیڈا کی دعوت
حیدرآباد ۔8 ۔ جولائی (سیاست نیوز) ہندوستان میں کینیڈا کے ہائی کمشنر کریس کوٹر نے آج چیف منسٹر ریونت ریڈی سے ملاقات کی اور تلنگانہ کے وفد کو کینیڈا کے دورہ کی دعوت دی۔ چیف منسٹر اور کینیڈا کے ہائی کمشنر نے سرمایہ کاری اور انوویشن کے شعبہ میں باہمی اشتراک اور دونوں ممالک کے رشتوں کو مستحکم کرنے کا فیصلہ کیا ۔ انفراسٹرکچر اور شہری ترقی کے پراجکٹس میں کینیڈا کے اداروں کے ساتھ باہمی تال میل کا جائزہ لیا گیا۔ موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ ، حیدرآباد میٹرو ریل توسیعی منصوبہ اور فیوچر سٹی جیسے پراجکٹ پر بات چیت ہوئی۔ کینیڈا کے ہائی کمشنر نے تلنگانہ اور کینیڈا کے درمیان روابط میں استحکام کے سلسلہ میں کینیڈا کے اداروں کی تلنگانہ میں سرمایہ کاری سے واقف کرایا ۔ کینیڈا کی فیران ٹکنالوجی گروپ نے حیدرآباد میں مینوفیکچرنگ یونٹ کا قیام کا فیصلہ کیا ہے ۔ سی آئی بی سی کی جانب سے گلوبل کیپبلٹی سنٹر قائم کیا جائے گا۔ سی پی پی گروپ نے تلنگانہ میں بڑے پیمانہ پر سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے مختلف شعبہ جات میں تلنگانہ کی ترقی کی تفصیلات پیش کیں جن میں انفارمیشن ٹکنالوجی ، لائیف سائنسیس ، ڈیفنس اور ایرو اسپیس شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی فارچیون 500 کمپنیوں نے حیدرآباد میں گلوبل کیپبلٹی سنٹرس قائم کئے ہیں۔ انہوں نے موسیٰ ندی کے احیاء اور اس کی ترقی کے پراجکٹ میں حکومت کی دلچسپی کا اظہار کیا اور کہا کہ پراجکٹ کے ذریعہ معیشت کا استحکام ممکن ہے۔ چیف منسٹر نے پراجکٹ کی تکمیل میں کینیڈا سے تعاون کی خواہش کی۔ گرین اکنامی کے فروغ میں کینیڈا سے تعاون کی خواہش کی گئی۔ چیف منسٹر نے کینیڈا کی یونیورسٹیز کو حیدرآباد میں کیمپس کے قیام کی دعوت دی۔ انہوں نے کینیڈی کمپنیوں کو سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ کینیڈا کے ہائی کمشنر نے ریاست کی ترقی کو مثالی قرار دیا اور کہا کہ حکومت روزگار کے مواقع پیدا کر رہی ہے۔ انہوں نے چیف منسٹر کو مختلف شعبہ جات میں تعاون کیلئے کینیڈا کے دورہ کی دعوت دی۔ آئندہ چند ماہ میں کینیڈا کا تجارتی وفد تلنگانہ کا دورہ کرے گا اور توانائی ، شہری ترقی ڈیفنس اور ایرو اسپیس کے شعبہ جات میں تعاون کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس موقع پر چیف منسٹر کے مشیر کے رام کرشنا راؤ ، انویسٹ تلنگانہ کے چیف اگزیکیٹیو آفیسر اجیت ریڈی ، انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن کے مینجنگ ڈائرکٹر ششانگ ، جوائنٹ سکریٹری انفارمیشن ٹکنالوجی انودیپ درشٹی اور ڈائرکٹر انڈسٹریز نکھل چکرورتی موجود تھے۔1/k/a/b