مولانا رابع ندوی سے ڈپٹی چیف منسٹر یو پی کی ملاقات

   

لکھنو: ہندوستان میں مسلمانوں کی سب سے بڑی تنظیم آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اکثر سرخیوں میں رہتی ہے۔ کبھی بورڈ کے فیصلے اور کبھی بورڈ کے جاری کردہ اعلانات سرخیوں میں رہتے ہیں۔ اب ایک تازہ معاملہ کے سبب یہ چرچا میں ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ بی جے پی کے اترپردیش کے ڈپٹی چیف منسٹر برجیش پاٹھک نے بورڈ کے صدر اور معروف عالم دین مولانا رابع حسنی ندوی سے ملاقات کی ہے۔مختلف سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں کی ندوہ آمد ہوتی رہی ہے مگر ڈپٹی چیف منسٹرٰ کی آمد کے سبب سیاسی حلقوں میں بحث گرم ہے۔گزشتہ دو دنوں میں بی جے پی کے دو بڑے وزیر بورڈ کے ہیڈ کوارٹر پہنچے اور وہاں انہوں نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدراور ندوہ العلما کے مہتمم مولانارابع حسنی ندوی سے ملاقات کی۔اس سے قبل ریاست کے وزیر مملکت برائے اقلیتی بہبود دانش آزاد انصاری بھی ندوہ پہنچے تھے اور مولانا سے ملاقات کی تھی۔ خبروں پر یقین کیا جائے تو ان ملاقاتوں کو محض رسمی کہا جاتا ہے۔ندوہ کے ذمہ داران نے بھی ان ملاقاتوں کو محض شائستہ ملاقاتوں سے تعبیر کیا ہے۔جمعرات کو لکھنو کے دینی وعلمی مرکز ندوہ پہنچے نائب وزیر اعلیٰ برجیش پاٹھک نے مولانا رابع حسنی ندوی کی خیریت دریافت کی اور دعا کی درخواست کی۔ ندوے میں میٹنگ کے وقت موجود ایک شخص نے بتایا کہ نائب وزیر اعلیٰ برجیش پاٹھک مغرب یعنی شام کی نماز کے دوران مولانا سے ملنے آئے تھے۔اس دوران مغرب کی اذان شروع ہوئی اور ملاقات چند منٹ ہی چل سکی۔اس کے بعد درمیان میں مولانا نماز پڑھنے چلے گئے۔ اس کی وجہ سے، یہ صرف چند منٹ چل سکی۔ملاقات کے دوران نائب وزیر اعلیٰ نے مولانا رابع حسنی ندوی سے ان کی صحت کے بارے میں دریافت کیا۔ اس سے قبل یوگی حکومت کے وزیر دانش آزاد نے بھی ندوہ جا کر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر اور مشہور مذہبی رہنما مولانا رابع حسنی سے ملاقات کی تھی۔ دراصل آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر مولانا رابع حسنی ندوی صاحب گزشتہ کئی دنوں سے علیل ہیں۔بی جے پی کے قائدین کی ملاقوں کو لیکر کئی باتیں ہورہی ہیں ۔