مٹھی بھر امداد المناک صورتحال تبدیل نہیں کرسکتی : اقوام متحدہ

   

نیویارک : اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گٹرس نے، بحیرہ اسود اناج راہداری سمجھوتے سے دستبرداری کے بعد روس کی طرف سے 6 پسماندہ افریقی ممالک کو اناج کی بلامعاوضہ فراہمی کے اعلان کا حوالہ دے کر، کہا ہے کہ مٹھی بھر امداد سے المیہ صورتحال کے اثرات تبدیل نہیں ہو سکیں گے۔گوٹیرس نے اقوام متحدہ دفتر میں ایجنڈے سے متعلق سوالات کے جواب دیئے ہیں۔روس کی اناج راہداری سمجھوتے سے دستبرداری کا جائزہ لیتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ “یہ بات نہایت واضح ہے کہ کئی ملین ٹن اناج کا منڈی سے باہر رہنا اقتصادی قوانین کی رْو سے یوکرینی اناج کی معمول کے مطابق منڈی تک رسائی کے مقابلے میں قیمتوں میں کہیں زیادہ اضافے کا سبب بنے گا”۔گوٹیرس نے کہا ہے کہ اناج کی قیمتوں میں اضافے کا بدل ہر جگہ پر ہر کوئی ادا کرے گا، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کا درمیانہ یہاں تک کہ لاچار طبقہ بھی اس کا بدل چْکائے گا”۔گوٹیرس نے روس کی طرف سے، 6 پسماندہ افریقی ممالک کو اناج کی امداد سے متعلق، جاری کئے گئے بیان کے حوالے سے کہا ہے کہ ” نتیجتاً، ہر ایک کو اور ہر جگہ کو متاثر کرنے والی، اس المیہ صورتحال کو بعض ممالک کی مٹھی بھر مدد سے سدھارا نہیں جا سکتا”۔واضح رہے کہ روس کے صدر ولادی میر پوتن نے کل سینٹ پیٹرز برگ میں منعقدہ روس۔افریقہ سربراہی اجلاس کی افتتاحی نشست سے خطاب میں روس کی زرعی مصنوعات پر پابندیوں کی وجہ سے مغربی ممالک کو دوغلے پن کا قصور وار ٹھہرایا تھا۔