مہاراشٹرا میں بی آر ایس کے دفاتر بند ، کے سی آر سے قائدین سخت ناراض

   

صدر بی آر ایس کے ہنگامی دورے و جلسے اکارت ثابت ، عام انتخابات میں حصہ لینے کا خواب چکنا چور
حیدرآباد۔8۔مارچ۔(سیاست نیوز) بھارت راشٹرسمیتی کی جانب سے قومی سطح پر سیاسی سرگرمیوں کے آغاز اور مہاراشٹرا میں کھولے گئے دفاتر اور پروگرامس کے انعقاد کے بعد اب مہاراشٹراسے تعلق رکھنے والے بی آر ایس قائدین نے پارٹی سربراہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے ناراضگی کا اظہار کرنا شروع کردیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ آئندہ چند یوم کے دوران مہاراشٹرا میں بھارت راشٹرسمیتی کے تمام دفاتر کو بند کرنے کے سلسلہ میں قطعی فیصلہ کرلیا جائے گا۔ ریاست مہاراشٹرا میں بھارت راشٹرسمیتی کی جانب سے قومی سیاست میں داخلہ کے بعد سیاسی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے اقدامات کئے گئے تھے اور اس وقت کے چیف منسٹر تلنگانہ و سربراہ بھارت راشٹرسمیتی مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے مہاراشٹرا میں منعقد کئے جانے والے جلسوں میں شرکت کرتے ہوئے عام انتخابات کے دوران حصہ لینے کا اعلان کیا تھا لیکن تلنگانہ میں اقتدار سے محرومی کے بعد کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے مہاراشٹرا کے قائدین کو نظرانداز کئے جانے کی شکایات میں اضافہ ہونے لگا ہے اور گذشتہ دنوں مہاراشٹرا کے بی آر ایس قائدین نے اجلاس منعقد کرتے ہوئے پارٹی سربراہ کے رویہ پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا ۔ اس اجلاس کے دوران کئے گئے فیصلہ کے مطابق مہاراشٹرا کے بی آر ایس قائدین نے کے چندر شیکھر راؤ کو روانہ کردہ مکتوب میں اپنی ناراضگی کا اظہار کرنے کے علاوہ اس بات سے بھی واقف کروایا ہے کہ مہاراشٹرا میں جن مقامات اور عمارتوں میں بی آر ایس کے دفاتر قائم کئے گئے ان کے کرایوں کی ادائیگی بند کی جاچکی ہے اور بی آر ایس پارٹی کی جانب سے مہاراشٹرا میں جاری سرگرمیوں کے لئے کوئی فنڈس جاری نہ کئے جانے کی بھی شکایت کی گئی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ مہاراشٹرا میں بھارت راشٹرسمیتی قائدین نے کے سی آر کو روانہ کردہ مکتوب میں کہا کہ انہیں مہاراشٹرا میں غدار کہا جانے لگا ہے کیونکہ وہ علاقائی پارٹیوں کو چھوڑ کر بھارت راشٹرسمیتی میں شامل ہوئے تھے اور لوگوں میں ایک امید پیدا کی تھی کہ بی آر ایس کی کارکردگی سے علاقہ کے حالات بہتر ہوں گے۔مہاراشٹرا سے تعلق رکھنے والے بی آر ایس قائدین اتم راؤ چندرکانت ‘ ڈاکٹر ملکرجن‘ وجئے موہیتے ‘ نکھل دیشمکھ‘ دسمتھ نام دیو‘ اور دیگر قائدین نے سابق چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق ان قائدین نے بتایا کہ بی آر ایس کے سرکردہ قائدین اور سابق وزراء تلنگانہ کی جانب سے بھی ان کے فون کے جواب نہیں دئیے جا رہے ہیں جس کے سبب وہ پارٹی میں خود کو غیر تصور کر رہے ہیں۔3