مہاراشٹرا میں مسلمانوں کو تعلیمی سطح پر 5 فیصد ریزرویشن دیا جاے ٔ گا:اجیت پوار

   

ناگپور: مہاراشٹرا اسمبلی کے ناگپور شہر میں جاری سرمائی اجلاس کے دوران نائب وزیر اعلی اجیت پوارسے آل انڈیا علماء بورڈ کے ذمہ داران نے ملاقات کی جس میں مہاراشٹرا میں تعلیمی سطح پر مسلمانوں کو پانچ فیصد ریزرویشن دینے کے مطالبے پر آج علما بورڈ کے نمائندہ وفد کواجیت پوار نے یقین دلایا کہ ریاست کے مسلمانوں کو تعلیمی میدان میں پانچ فیصد ریزرویشن کی فراہمی کے بابت بذات خود انہوں نے چیف منسٹر ایکناتھ شندے اور نائب وزیر اعلی دیویندر فڈنویس سے کابینی میٹنگ میں تفصیلی گفتگو کی ہے۔ حکومت اس ضمن میں ٹھوس اقدامات کرے گی،اردو اسکولوں میں عربی زبان کو لازمی مضمون قرار دینے کے معاملہ میں انہوں نے بورڈ کے وفد کو بتایاکہ چونکہ ایسا مطالبہ پہلی بار کیا گیاہے ، اس لئے یہ معاملہ کا جائزہ لیا جائے گا۔
جبکہ ملک میں ذریعہ تعلیم کیلئے سرکاری طور پرجو 14زبانیں منظور شدہ ہیں اس میں زبان عربی کا شمار نہیں۔ انہوں نے اس موقع پر محکمہ تعلیم سے بھی بات چیت کی اور بتایا کہ وہ اس ضمن میں وزیر تعلیم سے بھی بات چیت کریں گے اور کوئی نئی پالیسی مرتب کرنے کے حوالے سے اقدام کیا جائے گا۔وقف بورڈ میں جاری بدعنوانیوں کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ وقف جائیدادوں پر ناجائز قبضہ اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کے احکامات دے دئے گئے ہیں جلد حکومتی عملہ سرعت کے ساتھ اپنی کارروائی عمل میں لائے گا ساتھ ہی وقف پراپرٹی کے بقایا جات کی وصولی بھی کی جائے گی۔اجیت دادا پوار نے علماء بورڈ کے وفد سے تفصیلی گفتگو کے دوران مزید بتایا کہ بتایا کہ سیاسی طور پر ان کی وابستگی کسی بھی پارٹی سے ہوئی ہو لیکن انہوں نے سیکولرزم کا دامن نہیں چھوڑا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ سیکولرزم ہماری شناخت ہے اور اپنی شناخت پر ہم ہمیشہ قائم رہیں گے ۔ہم نے حال ہی ریاست کے اقلیتیوں کی فلاح وبہبود کے لئے پانچ سو کروڑ روپے منظور کئے ہیں۔اقلیتوں کے بہتر مستقبل کے لئے ہم مستقبل میں بھی اقدامات کرتے رہیں گے ۔علماء بورڈ کے وفد میں علامہ بنئی نعیم حسنی،ببورڈ کے وقف ونگ کے قومی صدر سلیم سارنگ، بی بی کامقبرہ کے متولی فیصل شیخ،پرنسپل شبانہ خان، پروفیسر زیبا ملک،سوفی احمد رضا قادری،اور پروفیسر اعجازشامل تھے ۔ اس موقع پر اخبار نویسوں سے بات چیت کے دوران سلیم سارنگ نے بتایا کہ ہمیں اجیت دادا پوار پر اعتماد ہے کیونکہ ان کے قول و فعل تضاد نہیں،انہوں نے صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے کہا ہم بھی اپنے سماج کے جواب دہ ہیں۔اگر حکومت کسی بھی طبقہ کو ریزرویشن دیا تو ہم اس کا استقبال کریں گے لیکن افر مسلمانوں کو ریزرویشن نہیں دیا گیا توعلماء بورڈ کے بینر تلے حق و انصاف کے حصول کے لئے مسلم ریزرویشن کے لئے ہم عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے ۔