تہران : ایرانی خاتون مہسا امینی کی موت کو واقع ہوئے دو برس گزرنے کو ہیں تاہم اس واقعے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات کے بعد سے عوامی مقامات پر کسی خاتون کو سکارف یا حجاب کے بغیر دیکھنا کوئی غیرمعمولی بات نہیں رہی۔ امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق سوشل میڈیا پر لوگوں یا اپنے روزمرہ معمول کے بارے میں بنائی گئی ویڈیوز میں خواتین اور لڑکیوں کو اپنی زلفیں کھولے دیکھا جا سکتا ہے۔ملک کے نئے اصلاح پسند صدر مسعود پزشکیان نے اخلاقی پولیس کے ہاتھوں خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات کو روکنے کے وعدے پر صدارتی انتخابی مہم چلائی تھی۔ تاہم ملک میں حتمی فیصلے کا اختیار 85 برس کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے پاس ہے جنہوں نے ماضی میں کہا تھا کہ ’نقاب نہ کرنا مذہبی طور پر حرام ہے اور سیاسی طور پر بھی۔‘ایران میں حجاب اور سیاہ چادر طویل عرصے سے ایک سیاسی علامت بھی رہی ہے۔